ویتنام :کسانوں نے کافی چھوڑ کر ڈورین کی کاشت بڑھادی
ڈک لک(اے ایف پی)ویتنام کے وسطی پہاڑی علاقے میں کسانوں نے چین میں بڑھتی طلب کے باعث کافی کے بجائے ڈورین کی کاشت بڑھانا شروع کردی۔
گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں ڈورین کا رقبہ 5گنا سے زائد بڑھ کر 2 لاکھ ہیکٹر ہوگیا ہے ۔ ویتنام نے 2022 میں چین کی ڈورین مارکیٹ میں باضابطہ رسائی حاصل کی ،ویتنام گزشتہ سال چین کو سب سے زیادہ ڈورین فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ ایک کسان کے مطابق ڈورین سے اس کی سالانہ آمدنی 76 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ کافی سے تقریباً 10 ہزار ڈالر کماتا تھا۔ ڈورین جنوب مشرقی ایشیا کا ایک مشہور اشنکٹبندیی پھل ہے ، جسے اس کی تیز اور خاص بو کی وجہ سے دنیا کا بدبودار ترین پھل بھی کہا جاتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments