نکاراگوا :اپوزیشن کی انتخابی شرکت پر پابندی، آئینی ترمیم منظور

نکاراگوا :اپوزیشن کی انتخابی شرکت پر پابندی، آئینی ترمیم منظور

بغاوت یا غداری کی کوشش ،فوجی مداخلت کا مطالبہ کرنیوالے افراد نااہل ہونگے عالمی برادری نکاراگوا کے ساتھ معمول کے کاروباری تعلقات ختم کرے :امریکا نئی ترمیم سے نکاراگوا میں جمہوریت کی رہی سہی گنجائش ختم :امریکی وزیر خارجہ

سان ہوزے ،واشنگٹن(اے ایف پی) نکاراگوا کے قانون سازوں نے صدر ڈینیئل اورٹیگا کی درخواست پر آئینی ترمیم منظور کرلی، جس کے تحت اپوزیشن سیاستدانوں کی انتخابات میں شرکت محدود کردی گئی ہے ۔ قومی اسمبلی کے سربراہ گستاوو پوراس نے بتایا   کہ ترمیم متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ نئی ترمیم کے تحت صدارتی مدت 6 سے بڑھا کر 7 سال کردی گئی ہے ۔ آئینی اصلاحات میں ایسے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے جو بغاوت یا غداری کی کوششوں میں ملوث ہوں یا ملک میں فوجی مداخلت کا مطالبہ کریں۔ اپوزیشن نے اقدام کو سیاسی مخالفین کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نکاراگوا میں اپوزیشن جماعتوں کو انتخابات سے روکنے کی آئینی ترمیم کے بعد عالمی برادری سے ملک کے ساتھ معمول کے کاروباری تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ روبیو نے کہا کہ صدر ڈینیئل اورٹیگا اور شریک صدر روزاریو موریلو کی زیراثر قومی اسمبلی نے ایک بار پھر آئین میں تبدیلی کرکے اقتدار کو خاندان تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق نئی ترمیم سے نکاراگوا میں جمہوریت کی رہی سہی گنجائش بھی ختم ہوگئی اور عوام کو آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...