فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی جرم:اقوام متحدہ

فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی جرم:اقوام متحدہ

اسرائیلی فوجی آپریشن میں پناہ گزین کیمپوں سے 33ہزار افراد کو بے گھر کیا گیا مکینوں کو بے دخل کرنا ،واپسی سے روکنا قابل قبول نہیں،انسانی حقوق دفتر کی رپورٹ

جنیوا (اے ایف پی)اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ سال مقبوضہ مغربی کنارے کے تین پناہ گزین کیمپوں سے تمام فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جنوری 2025 میں مقبوضہ علاقے کے شمال میں شروع کیے گئے اسرائیلی فوجی آپریشن کے  نتیجے میں 33 ہزار سے زائد افراد کو جبراً بے گھر کیا گیا۔ اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ‘‘آئرن وال’’ نامی آپریشن کے آغاز پر اسرائیلی فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے جنین، نور شمس اور طولکرم جیسے پناہ گزین کیمپوں میں داخل ہو کر شہریوں کو قتل کیا، سیکڑوں مکانات تباہ کیے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔

اسرائیلی فورسز نے کیمپوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کردی، انسانی امداد کی رسائی روکی اور گھر گھر جاکر ‘‘مکینوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور’’ کیا۔رپورٹ کے مطابق آپریشن شروع ہونے کے چند روز بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے کیمپوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا اور ‘‘ان کی پوری آبادی کو جبری طور پر بے دخل کردیا۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ مکینوں کو بے دخل کرنا اور انہیں واپسی سے روکنا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل قبول نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...