روسی انتخابات، پیوٹن کی پارٹی ریکارڈ 355 نشستوں پر کامیاب

روسی انتخابات، پیوٹن کی پارٹی ریکارڈ 355 نشستوں پر کامیاب

انتخابات 3 روز تک جاری رہے ،ٹرن آؤٹ 59 فیصد سے زائد رہا:الیکشن حکام برطانیہ سمیت 5 ممالک کی مقبوضہ یوکرین میں روسی انتخابات پر شدید تنقید

ماسکو،لندن،برسلز(اے ایف پی)روس میں صدر پیوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیا نے پارلیمانی انتخابات میں ریکارڈ 355 نشستیں جیت کر ایوان زیریں دوما میں بھاری اکثریت حاصل کرلی۔ الیکشن حکام کے مطابق 450 رکنی ایوان میں جماعت نے سابقہ ریکارڈ 343 نشستوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات تین روز تک جاری رہے ، ووٹر ٹرن آؤٹ 59 فیصد سے زائد رہا۔ پیوٹن کی پالیسیوں یا یوکرین جنگ پر تنقید کرنے والی جماعتیں انتخابی عمل میں شامل نہیں تھیں،انتخابات کے دوران یوکرین میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا گیا۔ 

کریملن نے نتائج کو روسی معاشرے کے پیوٹن کی قیادت میں اتحاد کا مظہر قرار دیا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے یوکرین کے زیر قبضہ علاقوں میں روسی پارلیمانی انتخابات کی مذمت کردی۔ پانچوں ممالک نے مشترکہ بیان میں روسی انتخابات کو دھوکاقرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں ووٹنگ یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کی کھلی خلاف ورزی اور وسیع تر قبضے کے نظام کا حصہ ہے ۔پانچوں ممالک کے مطابق روس کی جانب سے ان علاقوں میں ریاستی دوما کے انتخابات کرانا اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے روسی پارلیمانی انتخابات کو جمہوریت کا محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد میں معاونت کرنے والوں پر پابندیوں کی تجویز دے دی۔اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ماریانا کتزارووا نے روس پر بیرون ملک اپنے ناقدین کو دھمکانے اور سزا دینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس اپنے ملک میں جاری خوف کی حکمرانی کو سرحدوں سے باہر بھی پھیلا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...