امن مشن،محسن نقوی کی ایران میں اہم ملاقاتیں: امریکا نے معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی:قطر،تیل 100ڈالر بیرل سے نیچے آگیا
ایرانی ایئر لائنز کیلئے دنیا بھر کی فضائیں آج سے بند،امریکی وزیر خزانہ، ہرمز میں برطانوی پرچم بردار ٹینکر پر حملہ،امریکی ڈرون مار گرایا ٹرمپ نے حوثیوں پر حملہ آخری وقت میں روک دیا،یمنی حوثیوں کی اہم پہاڑیوں پر قبضے کی کوشش تیز، سعودی اتحاد کے 28 حملے
ریاض، دبئی، تہران (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پھر تہران پہنچ گئے ، قطر نے کہا ہے کہ امریکا نے معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے ، مذاکراتی عمل میں پیش رفت اور سعودی عرب کی طرف سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمدات بڑھانے کے پیش نظر خام تیل کی عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے تہران ایئرپورٹ پر استقبال کیا، دونوں وزرا نے تفصیلی ملاقات کی جبکہ وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی جب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط پہنچا دی ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے مابین مختلف شعبوں میں جاری باہمی تعاون پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک باہمی مفاد اور علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے ۔قطر نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے ،قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے سفارتی رابطے اور مختلف تجاویز پر بات چیت جاری ہے جبکہ پاکستان بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں شریک ہے ۔ادھر حوثی جنگجوؤں نے پیر کو یمن کے تزویراتی اہمیت کے حامل پہاڑی مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش تیز کر دی تاکہ بحیرۂ احمر کے ساحل کو سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ قبضہ باقی علاقوں سے کاٹا جا سکے ۔ یہ پیش رفت ایسی رپورٹ کے بعد ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری وقت میں حوثیوں کے خلاف امریکی حملے منسوخ کر دئیے تھے ۔نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ سعودی ولی عہد کی تازہ درخواستوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے کی تیاری کر لی تھی۔ تاہم ٹرمپ نے آخری وقت میں یہ فضائی حملے منسوخ کر دیے ، حتیٰ کہ اس وقت فوجی اہلکار طیاروں پر بم لوڈ کر رہے تھے ۔
چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض میں مقیم یمن کی سعودی حمایت یافتہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشاد العلیمی نے اتوار کو ٹرمپ سے فون پر یمن میں امریکی فوجی مدد طلب کی تھی ،ٹرمپ نے گفتگو کے دوران مدد کی کوئی براہِ راست یقین دہانی نہیں کرائی۔حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں۔حوثیوں کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ چند روز کے دوران پہاڑی علاقوں میں ان کے ٹھکانوں پر سیکڑوں حملے کیے ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی میں حالیہ شدت کے دوران تقریباً 700 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار یمنی ملک کے اندر اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ 3ہزار سے زیادہ افراد بحیرۂ احمر عبور کرکے کشتیوں کے ذریعے افریقہ فرار ہو گئے ہیں۔یمنی فوج کے پانچ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حوثی اب تزویراتی اہمیت کے حامل پہاڑی مقامات، جنہیں کہبوب پہاڑ کہا جاتا ہے ، پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پہاڑ تعز اور لحج کے دو صوبوں میں واقع ہیں اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کو حکومت کے زیرِ قبضہ جنوبی علاقوں سے جدا کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق لڑائی تعز صوبے کے دور افتادہ پہاڑی ضلع الوازیعہ کے مضافات اور رأس العَرہ کے علاقے میں مرکوز ہے ۔ رأس العَرہ بحیرۂ ہند کے ساحل پر واقع ہے اور بحیرۂ احمر کے دہانے پر آبنائے باب المندب اور حکومت کے مرکز عدن کے درمیان واقع ہے ۔بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی سے سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کا وہ اہم متبادل راستہ بھی منقطع ہونے کا خطرہ ہے جسے وہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ خلل سے بچنے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے ۔سعودی عرب نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بڑھا دی ہے ۔ وہاں چند ٹینکر اب تیل نکالنے کیلئے بار بار آمدورفت کر رہے ہیں اور جنگی خطرات مول لینے کے عوض ریکارڈ معاوضہ وصول کر رہے ہیں، جو بعض صورتوں میں مال کی مالیت کے ایک چوتھائی تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس کے بعد یہ ٹینکر بحرِ ہند میں تیل دوسرے جہازوں میں منتقل کر دیتے ہیں، جو اسے ایشیا اور دیگر علاقوں کے خریداروں تک پہنچاتے ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے رواں ماہ اور اگلے ماہ کے لیے 6 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا ہے ، جسے آبنائے ہرمز کے دوسری جانب عمان کے ساحل کے قریب سے جہازوں پر لادا جائے گا۔سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی برآمدات بڑھ کر روزانہ 29 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو اگست میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔اس صورتِ حال نے عالمی خام تیل کی قیمت میں اضافے کو کسی حد تک محدود رکھنے میں مدد دی ہے ۔گزشتہ ہفتے تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد قیمت دوبارہ 100 ڈالر کے قریب آ گئی ہے ۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد کمی کے بعد 99.69 ڈالر فی بیرل پر آگئی ۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 5 فیصد کمی سے 95.22 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ تاہم صارفین اور صنعتیں بعض ریفائن شدہ ایندھن کے لیے اب بھی ریکارڈ قیمتیں ادا کر رہی ہیں۔ امریکا میں ڈیزل کی خوردہ قیمت پیر کو ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی حکومت کے ملازمین کے سعودی شہروں طائف اور ینبع کے سفر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔دریں اثنا آبنائے ہرمز میں برطانوی پرچم بردار ٹینکر ‘‘لا سٹیفنی’’ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے دو افراد زخمی ہوئے ۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرایا ہے ، ایرو اسپیس فورس نے امریکی ایم کیو ون ڈرون کا سراغ لگایا۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ آج منگل سے دنیا بھر کی فضائیں تمام ایرانی ایئر لائنز کیلئے بند کر دی جائیں گی۔محکمہ خزانہ نے تقریباً دو ہفتے قبل 27 ایرانی ایئر لائنز کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع کب تک جاری رہے گا، تاہم اُنھوں نے بتایا کہ ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے اُنھوں نے چین سے بات چیت کی ہے ۔چینی صدر دو روز میں امریکہ کا دورہ کریں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کریں گے جن میں ایران پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔بیسنٹ نے کہا کہ 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز کیلئے دنیا بھر میں خدمات حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ان کے مطابق ایرانی طیاروں کو ایندھن یا لینڈنگ سروسز فراہم کرنے اور ان کے ٹکٹ فروخت کرنے والے اداروں کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے خارج کیا جاسکتا ہے ۔ عراق نے امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا،عراقی حکومت کے دو ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بغداد امریکی محکمہ خزانہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے منگل کی صبح سے ایرانی ایئرلائنز پر پابندی نافذ کرے گا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے ، صدر ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے مزید حملہ کیا تو نئے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا اور جدید ہتھیار میدان میں اتارے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا امریکی حملے کی صورت میں ایران کی دفاعی اور جوابی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ نئے ہتھیار نئی صلاحیتوں کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے اور دنیا حیران رہ جائے گی۔ آئندہ اہداف پہلے سے مختلف ہوسکتے ہیں جبکہ پاسداران انقلاب طویل جنگ کیلئے بھی تیار ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ہمارے پیغامات اور شرائط کی وضاحت ثالثوں کے ذریعے دوسرے فریق تک واضح طور پر پہنچا دی گئی ہے ، جب تک شرائط پوری نہیں ہوتیں اور امریکا اپنے وعدے پورے نہیں کرتا، مذاکرات سے پہلے کی صورتحال اور کھلی آبنائے ہرمز کی طرف واپسی ناممکن ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments