ہمارے5 ایم این ایز اور ایک صوبائی وزیر گرفتار:بیر سٹر گوہر :بند گلی میں نہ جائیں،واپسی مشکل :محسن نقوی
ہمارا نہیں ملک کا بندوبست کریں:چیئرمین پی ٹی آئی ، عمران کی بہنیں نورین، عظمیٰ بھی کوٹ لکھپت جیل منتقل، نظر بندی کیخلاف آج ہائیکورٹ میں سماعت گولی کا جواب گولی :سہیل آفریدی ، مذاکرات کیلئے تیار :راجا ناصر،اس بار مستقل حل نکالیں گے :وزیرداخلہ،پرامن لوگ ڈنڈے لیکر نہیں نکلتے :تارڑ
پشاور، اسلام آباد، لاہور (دنیا نیوز، کورٹ رپورٹر) چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارے 5 ایم این ایز اور ایک صوبائی وزیر گرفتار ہوچکے ہیں، ہزاروں کارکن بھی زیرحراست ہیں لیکن ہم قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیں گے ، پاکستان اور ریاست سب سے پہلے ہیں۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف ایک سیاسی قوت ہے جس کی جڑیں عوام میں ہیں، ہم پرامن تھے ، ہیں اور پرامن رہیں گے ، ملک مزید تشدد برداشت نہیں کرسکتا، جو لوگ طاقت میں ہیں انہیں عوام کے جذبات کا احساس کرنا ہوگا۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا ہم نے تعلقات ختم نہیں کیے بلکہ رابطے برقرار ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔ ہمارا نہیں بلکہ ملک کا بندوبست کریں، ہمارا تعاون ساتھ ہوگا۔ تحریک انصاف اسلام آباد پر چڑھائی کرنے نہیں جارہی، اسلام آباد جائیں گے تو پاکستان کے جھنڈے اور بانی پی ٹی آئی کے نعرے ہوں گے ، قانون کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیں گے ۔ انہوں نے کہا ہمیں 4 سال میں ایک بھی لانگ مارچ نہیں کرنے دیا گیا جبکہ آپ نے 3 سال میں 11 لانگ مارچ کیے ، بانی پی ٹی آئی کے کیسز میں انصاف کے مطابق فیصلے ہمارا مطالبہ ہے ۔بیرسٹر گوہر نے کہا مذاکرات کی پیشکش ہوئی لیکن بات آگے نہیں بڑھائی گئی، ہمارے 5 ایم این ایز اور ایک صوبائی وزیر زیرحراست ہیں جبکہ تقریباً 1500 کارکن گرفتار ہوچکے ہیں۔خیبرپختونخوا میں ہمارے وزرا کو بھی گرفتار کیا گیا، سوال ہے انہیں کس پاداش میں گرفتار کیا گیا؟ ہمیں کہا جارہا ہے کہ آگے بڑھے تو دہشتگردوں کی طرح نمٹا جائے گا، ہم پوچھتے ہیں کیا ہم دہشتگرد ہیں؟ انہوں نے کہا ہمیں اکسایا جارہا ہے لیکن ہم دہشتگردوں کی طرح نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے آئیں گے ۔انہوں نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی سطح پر متعلقہ لوگوں سے رابطے جاری رکھنے اور موجودہ صورتحال سے متعلق پیغام پہنچانے کی ہدایت کی ہے ، گرفتاریوں سے حالات مزید سنگین ہوجائیں گے ۔
عمران خان کے خاندان اور رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک افسوسناک ہے ، کشیدگی کم کرنے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے ۔ادھر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا وزیراعظم سیاسی رہنماؤں کی کمیٹی بنائیں، حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ دونوں جانب سے سیاسی کمیٹیاں بیٹھیں گی تو مشکلات اور مسائل کا حل نکل سکتا ہے ، حکومت جب چاہے مذاکرات کیلئے ہماری پیشکش موجود ہے ۔دریں اثنا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ کے بعد عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی نظربند کردیا گیا۔ تینوں بہنوں کی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی گئی ہے اور جسٹس عبہر گل خان آج صبح 9 بجے سماعت کریں گی۔ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ڈپٹی کمشنر لاہور کے احکامات پر تھری ایم پی او کے تحت پولیس کی سفارش پر 30 روز کیلئے نظر بند کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے علیمہ خان کی رہائشگاہ سے ان کی بہنوں اور بھانجوں کو حراست میں لیا، بعدازاں بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا جبکہ دونوں بہنوں کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر جیل بھجوا دیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ میں درخواست علیمہ خان کے بیٹے اور عظمیٰ خان کی بیٹی سکینہ نے وکیل رانا مدثر عمر کے توسط سے دائر کی۔ درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔ موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی سی لاہور نے غیرقانونی طور پر نظر بندی کے احکامات جاری کیے ، تینوں بہنیں کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور تھری ایم پی او کے طریقہ کار کے مطابق احکامات جاری نہیں کیے گئے ۔ عدالت سے نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔ ادھر پولیس نے مظفرآباد میں خواجہ فاروق کی رہائشگاہ پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا جبکہ پی ٹی آئی سے وابستہ 12 دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب اسلام آباد مارچ کی کال کے حوالے سے مشاورتی اجلاس جاری تھا۔ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور تمام آئینی، قانونی و جمہوری راستے اپنائے ہیں لیکن ہماری بات نہیں سنی جارہی۔ آخری راستہ احتجاج کا ہوتا ہے اور ہم نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا۔ 27 ستمبر کو پرامن طور پر ضرور نکلیں گے ، عمران خان کی بہنوں، رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کو گرفتار کرکے تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش ناکام ہوگی۔ انہوں نے کہا 25 ستمبر کو احتجاج کا تمام پلان سامنے لے آئیں گے ، ہمارا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ہم پرامن اور جمہوری طریقے سے انصاف کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا اگر گولی چلائی گئی تو پھر دوسری طرف سے بھی گولی چلے گی، موجودہ صورتحال ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے ۔ وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم کوئی دہشتگرد نہیں، بندوق کا مقابلہ بندوق سے نہیں کررہے بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما شفیع اللہ جان نے ایکس پر بیان میں کہا رات کے اندھیرے میں عمران خان کی بہنوں کی بچوں سمیت گرفتاری شرمناک اور قابل مذمت ہے ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا اور گھروں میں توڑ پھوڑ پنجاب پولیس کا وتیرہ بن چکا ہے ۔ عمران خان کی فیملی کو آخر کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ؟ ان ظالمانہ اقدامات کا حساب دینا پڑے گا۔پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے کہا 27 ستمبر کو ہم آئیں گے اور پوری طاقت سے آئیں گے مگر جس طرح اراکین اسمبلی کو اغوا کیا جارہا ہے وہ تشویشناک ہے ۔ اسد قیصر نے کہا فارم 47 کی جعلی حکومت نے سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کردی ہیں، عمران خان کی بہنوں کی گرفتاریاں حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔ پی ٹی آئی سینیٹر عون عباس بپی نے کہا سیاسی اختلاف کو گرفتاریوں، چھاپوں اور خوف کی فضا قائم کرکے دبایا نہیں جاسکتا۔
اسلام آباد،کوہاٹ (خصوصی رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد پر دھاوا نہیں بولنے دیں گے ، اسلام آباد پر دھاوا بولا تو نقصان خود پی ٹی آئی کو ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم موجود ہے ، حکومت اس پر من وعن عمل کرے گی اور احتجاج کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا اس بار مستقل حل نکالیں گے ، ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی آکر بیٹھ جائے اور ملک 10،20 دن کیلئے بند ہوجائے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا پی ٹی آئی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کررہی ہے ، احتجاج کا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا تاہم ملکی معیشت کا نقصان ضرور ہوگا۔ پی ٹی آئی کے جو سمجھدار سیاستدان ہیں وہ لانگ مارچ نہیں چاہتے ۔ اس بار حکومت انتشار برداشت نہیں کرے گی، لانگ مارچ کیلئے آئے تو کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہا اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی قیادت کو کئی مرتبہ کہا ہے کہ اس طرح کے احتجاج سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، اب بھی وقت ہے ، اس بند گلی میں نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہ ہو۔محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ سے متعلق کہا اگر پی ٹی آئی کا مطالبہ طبی معائنہ ہے تو اتوار کی رات بھی ان کا چیک اپ ہوا ہے ، علاج کیلئے قانون کے مطابق ہر سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا پی ٹی آئی کے لوگوں کو خود بھی پتا نہیں کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گزشتہ 10 روز میں ایک مسجد پر خودکش حملہ ہوا جبکہ دیگر حملوں میں سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ۔ افغانستان جب تک مسلح جتھوں کو نہیں روکے گا، اس کے ساتھ حالات معمول پر نہیں آسکتے ۔ محسن نقوی نے کہا وہ رات ایک بجے پشاور میں شہدا کے جنازوں میں شریک تھے لیکن خیبرپختونخوا کے کسی وزیر نے جنازوں میں شرکت نہیں کی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق انہوں نے کہا عالمی منڈی کی صورتحال کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، گزشتہ روز بھی بڑی مشکل سے ایک تیل بردار جہاز نکلوایا ہے ۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق محسن نقوی نے کہا معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ، عوام نئے صوبوں کے معاملے میں بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر عوام کی مرضی ہوئی اور اللہ نے چاہا تو نئے صوبے ضرور بنیں گے ۔
دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کوہاٹ میں پارٹی ورکرز سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جب کوہاٹ میں خون بہہ رہا تھا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کہاں تھے ؟ وزیراعلیٰ سیاسی سرگرمیوں اور فوٹوشوٹ کیلئے لاہور میں موجود تھے ، انہیں کوہاٹ آکر متاثرین اور شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے سی ایم ایچ کوہاٹ میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت اور شہید پولیس اہلکار فہیم اللہ کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔عطااللہ تارڑ نے کہا پی ٹی آئی نے کبھی پرامن احتجاج نہیں کیا، پرامن لوگ ڈنڈے ، کیل اور اسلحہ لے کر گھروں سے نہیں نکلتے ۔ انتشاری جتھے کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں مذاکرات کی پیشکش کی لیکن جب بھی بات چیت کی کوشش کی جاتی ہے تو سیاسی الزام تراشی شروع کردی جاتی ہے ۔ احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے تاجر، کسان، مزدور اور دکاندار متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا میں بجلی اور گیس کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی، تاہم صوبائی حکومت کو فنڈز کے بہانے کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے ، مائننگ کے ٹھیکوں اور اس سے حاصل آمدن و ٹیکس کا حساب دینا ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments