طائف ،ینبع پر حملے ناکام،حوثیوں کے6میزائل تباہ،ایرانی کمانڈر شہید
مکہ سمیت کئی علاقوں میں الرٹ،امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی:مشیر ایرانی سپریم لیڈر 90فیصد تک ایرانی پروازیں متاثر:امریکی وزیر خزانہ ،ایرانی خام تیل کے 3ٹینکر امریکا کی طرف گامزن،تیل مہنگا
ریاض،تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرتے ہوئے سعودی شہروں طائف اور ینبع پر حملوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے ۔ حملوں سے قبل مکہ سمیت کئی علاقوں کیلئے سکیورٹی الرٹس جاری کئے گئے جو چند منٹ بعد واپس لے لئے گئے ۔ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے ، جس میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دریں اثنا ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین ظریفی جنوب مشرقی ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران شہید ہوگئے جبکہ پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے ۔
متحدہ عرب امارات نے امریکی پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایرانی ایئرلائنز کی تمام پروازیں معطل کردیں۔ترکمانستان نے بھی ایرانی طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے بعد طیارے کو واپس تہران لوٹنا پڑا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا دباؤ تین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے ۔فاکس نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے آنے اور جانے والی 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔ انھوں نے ایرانی نمائندوں کی اقوام متحدہ میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ ایرانی وفد واپس کیسے جائے گا۔انھوں نے ایران سے منسلک مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی مالیاتی نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی کے تین ممکنہ اہداف ہیں۔ ایرانی حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور نظام اندرونی طور پر کمزور ہو جائے ۔ ایرانی عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف عوامی بغاوت یا احتجاجی تحریک جنم لے اور ایران مذاکرات کی صورت میں کسی بھی معاہدے کی مکمل پابندی کرے اور اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے ۔ان کا مزید کہنا تھا ایران پر معاشی دباؤ ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے ۔ امریکا کی جانب سے قبضے میں لئے گئے ایرانی خام تیل سے بھرے 3 آئل ٹینکر بحر اوقیانوس میں پہنچ گئے ۔ تینوں ٹینکروں میں مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل موجود ہے ، جس کی مالیت 60 کروڑ ڈالر کے قریب ہے ۔ ٹینکروں نے اپنے ٹرانسپونڈرز پر منزل ظاہر نہیں کی، تاہم ٹینکر ٹریکرز کے مطابق ان کا رخ امریکا کی جانب ہے ۔ ڈیٹا کے مطابق دو ٹینکرز، میجسٹک ایکس اور ٹیفانی، برازیل کے شمالی ساحل کے قریب موجود ہیں، جبکہ تیسرا جہاز لینور منگل کو جنوبی افریقہ کے قریب کیپ ہارن سے گزر کر بحر اوقیانوس میں داخل ہوا۔ امریکا نے تینوں جہازوں کو ایران پر عائد پابندیوں کے تحت قبضے میں لیا تھا۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے اس دور میں واپس نہیں جائے گا جو جنگ سے پہلے کا تھا، امریکا کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا، جب تک ہماری شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔انہوں نے کہا ایران نے تنازع کے حل کیلئے 7 شرائط مرتب کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ شرائط تحریری طور پر پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر یحیی رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ کی جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے اور مہنگائی کے خدشات کے باعث جمعرات کو عالمی سٹاک مارکیٹوں میں مجموعی طور پر مندی رہی جبکہ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔ عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 4 اعشاریہ 1 فیصد بڑھ کر 95اعشاریہ 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ بحرین سمیت 80 ممالک کے اتحاد نے خلیج میں بحری آمدورفت کے حقوق اور اصول فوری طور پر مکمل بحال کرنے کا مطالبہ کردیا،بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا، بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد ایران کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے باعث خلیج میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے ۔ عالمی تجارت اور خطے کے استحکام کے لیے خلیج میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت ضروری ہے ۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ‘آرامکو’ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے جاپانی جریدے ‘نکی ایشیا’ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سعودی عرب میں حملوں سے متاثرہ تیل تنصیبات کی بحالی آئندہ چند روز میں ہو سکتی ہے جبکہ تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے قائم کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے ۔امین ناصر نے بتایا کہ آرامکو اپنے موجودہ تین بڑے برآمدی راستوں کے علاوہ خام تیل کی ترسیل کے لیے چوتھے اور پانچویں راستے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ کمپنی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کیلئے بیرون ملک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے پر بھی غور کر رہی ہے ، جس میں جاپان سمیت دیگر ممالک میں ذخیرہ گاہوں کا قیام شامل ہے ۔انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ انھوں نے عالمی جہاز رانی کو جنگوں اور تنازعات سے کبھی اتنا متاثر ہوتے نہیں دیکھا جتنا اس وقت ہو رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا جون سے اب تک آبنائے ہرمز اور روس یوکرین جنگ سے متعلق واقعات میں تقریباً 100 بحری کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے کہا آئی ایم او سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے اصول کا دفاع جاری رکھے گی اور جہاز رانی پر رکاوٹیں یا اضافی محصولات عائد کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرے گی
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments