اسرائیلی پالیسیوں سے فلسطینیوں کی بقا کو خطرہ:محمود عباس

اسرائیلی پالیسیوں سے فلسطینیوں کی بقا کو خطرہ:محمود عباس

خطرہ اب دو ریاستی حل کو کمزور کرنے تک محدود نہیں رہا:فلسطینی صدر امریکا کا ویزے نہ دینے کا اقدام غیر قانونی ہے :جنرل اسمبلی سے خطاب سی پی جے کی غزہ جنگ میں صحافیوں کی شہادتوں کی فہرست پر نظرثانی

نیو یارک(اے ایف پی)فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں اب صرف دو ریاستی حل کو خطرے میں نہیں ڈال رہیں بلکہ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر زندگی اور وجود بھی خطرے سے دوچار ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے محمود  عباس نے کہا کہ خطرہ اب دو ریاستی حل کو کمزور کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنے تک محدود نہیں رہا۔ موجودہ صورتحال فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر بقا اور وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہے ۔ محمود عباس نے عالمی برادری سے فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں جاری تنازع کے حل کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ فلسطینی صدر نے امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا نہ دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے ۔ پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں محمود عباس نے امریکی اقدام کو سزا دینے والا فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت ان اقدامات کو مسترد کرتی ہے اور ویزا سے انکار کے لیے پیش کی گئی وجوہات اور الزامات کو بھی قبول نہیں کرتی۔ عباس کے مطابق امریکی اقدام غیر قانونی ہے ۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے ) نے غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے میڈیا کارکنوں کی فہرست سے مزید 22 افراد کے نام خارج کردئیے ہیں۔ سی پی جے کے مطابق جائزے میں بعض افراد کے جنگجو ہونے کی نشاندہی ہوئی جبکہ چار ایسے افراد کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا جنہیں پہلے غلطی سے نکال دیا گیا تھا۔ تنظیم نے بتایا کہ اب اسرائیل کو جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 191 صحافیوں یا میڈیا کارکنوں کی شہادت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...