اقوام متحدہ:درجنوں سفارتکاروں کا نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ

اقوام متحدہ:درجنوں سفارتکاروں کا نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ

اقوام متحدہ کے باہربھی احتجاج،ہالی ووڈ اداکارہ سوزن سارینڈن سمیت کئی گرفتار

اقوام متحدہ (اے ایف پی)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران سمیت اپنے مخالفین اور بعض اتحادی ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی تقریر کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کے درجنوں سفارت کار احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے ، جبکہ بعض نے نعرے بازی اور احتجاج کیا۔ نیتن یاہو نے واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو اخلاقی بزدل قرار دیا۔ انہوں نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر بھی یہود مخالف ہونے کا الزام عائد کیا۔نیتن یاہو نے برطانیہ اور فرانس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ماضی میں نوآبادیاتی طاقتیں رہے ہیں، اس لیے اسرائیل پر نوآبادیات کا الزام عائد کرنا مناسب نہیں۔ برطانیہ اور فرانس ہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے ‘‘نوآبادیات’’ کی اصطلاح متعارف کرائی۔ نیتن یاہو نے ایران کو خونی آمریت قرار دیا۔نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے ایران کو ایسے ایٹمی بم بنانے سے روکنے کا عزم کر رکھا تھا جو اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں اور پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو آمر قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے باہر بھی درجنوں افراد نے احتجاج کیا، اس دوران ہالی ووڈ اداکارہ سوزن سارینڈن اور اداکارہ ہنّا آئن بائنڈر سمیت متعدد افراد کو نیویارک پولیس نے حراست میں لے لیا۔یہ مظاہرہ ‘‘جیوش وائس فار پیس’’ کے زیر اہتمام کیا گیا، جس میں شرکا نے ‘‘اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کرو’’ اور ‘‘نسل کشی ختم کرو’’ کے نعروں والے بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...