یمنی حکومت کا حوثیوں کیخلاف ملک گیر آپریشن شروع
شدید جھڑپیں،70ہلاک،سینکڑوں زخمی ،یمنی حکومتی فورسز کے فضائی حملے حوثیوں کا ریاض ، خریص میں آرامکو تنصیبات پر میزائل ، ڈرون حملوں کا دعویٰ ایران کمزور ہو چکا،جوہری منصوبے ترک کر دئیے :ٹرمپ، ہرمز میں ٹینکر پر حملہ امریکا ایران جنگ کا فوجی حل ناممکن:عباس عراقچی ،ایرانی وزیر پٹرولیم مستعفی
صنعا،تعز،ریاض،واشنگٹن،تہران(اے ایف پی)یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثی جنگجوؤں کے قبضے سے تمام علاقوں کی واپسی کیلئے نیا ملک گیر فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ العلیمی نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ فوجی آپریشن کا مقصد ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینا اور پورے ملک میں ریاستی اداروں اور حکومت کی عمل داری بحال کرنا ہے ۔ یمن کے مغربی صوبے تعز اور گردونواح میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک،سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔یمنی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ لڑائی میں 34 حکومتی اہلکار مارے گئے ، حوثی فوجی ذرائع نے اپنے 39 جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔ یمن کی حکومتی فورسز نے دارالحکومت صنعا، صعدہ اور جنوب مغربی شہرتعز میں حوثی اہداف پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے ، حوثی جنگجوؤں نے تعز کو عبوری دارالحکومت عدن سے ملانے والی اہم سپلائی شاہراہ بند کرکے علاقے میں پولیس سٹیشن کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حوثیوں نے الصفیا کے علاقے پر قبضہ کرلیا، جس کے باعث تعز شہر کا محاصرہ مزید سخت ہوگیا ہے ۔ علاقے میں لڑائی جاری ہے ۔ حکومتی فورسز کے زیرکنٹرول تعز شہر کو حوثیوں نے شمال، مشرق اور مغرب سے طویل عرصے سے گھیر رکھا ہے ۔
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے ۔ حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے اتوار کو بیان میں کہا کہ حملوں میں دارالحکومت ریاض اور مشرقی علاقے خریص میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں حوثیوں نے ہفتے کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ان تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، تنازع صرف مذاکرات کے ذریعے ختم ہوسکتا ہے ،تہران میں غیرملکی سفیروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا نئی پابندیاں بھی مسئلے کا حل نہیں، منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی تنازع کے خاتمے کا راستہ ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع مشکل راستے یا آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے ۔
ایران کے بارے میں مجھے ایک فیصلہ کرنا ہے ،تہران کومشکل یا آسان راستے کا اختیارہے ۔ امریکی اقدامات اور کارروائیوں کے نتیجے میں ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور اس نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے تقریباً تمام منصوبے ترک کر دئیے ہیں۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق نامعلوم چیز ٹینکر سے ٹکرائی تاہم واقعے کی تاریخ، جہاز کی منزل و روانگی یا یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ متاثرہ جہاز آئل ٹینکر تھا یا ایل این جی کیریئر۔ایران کے دارالحکومت تہران میں ٹرمپ اور امریکا مخالف بڑے بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں جن میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی عکاسی کی گئی ہے ۔امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد کے دو ارکان کو ملک چھوڑنے کی ہدایت نظرانداز کرنے پر امریکا سے نکال دیا۔ایران کے وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حامد بوارد کو قائم مقام وزیر مقرر کردیا گیا۔ امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد ایرانی ایئرلائنز نے عراق کے مقدس شہر نجف کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کردی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments