مشرق وسطیٰ تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے متجاوز
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود خطے سے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوا :کپلر امریکا ایران جنگ سے عالمی تیل ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے :آرامکو سربراہ
سنگاپور،لندن(اے ایف پی)آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود مشرق وسطٰی سے ایران کے سوا تیل کی برآمدات گزشتہ ہفتے جنگ سے پہلے کی سطح سے بڑھ گئیں۔ میری ٹائم ٹریکنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد پہلی بار ہفتہ وار اوسط تیل ترسیل کئی روز تک جنگ سے قبل کی سطح 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کرتی رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باوجود خطے سے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوا۔سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔ لندن میں انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی تیل کی فراہمی کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور ہنگامی صورتحال میں دنیا کے پاس متبادل ذرائع بھی انتہائی محدود ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments