اسرائیل کیخلاف لندن، برلن ،ڈبلن میں ہزاروں افراد کے مظاہرے

اسرائیل کیخلاف لندن، برلن ،ڈبلن میں ہزاروں افراد کے مظاہرے

اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیاں ناکافی ہیں:ایمی شالان

لندن،برلن ،ڈبلن(اے ایف پی)حماس کے 7 اکتوبر2023 کے حملے کے تین سال مکمل ہونے کے بعد ہفتے کولندن، برلن اور ڈبلن میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کیخلاف اور فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے اور غزہ پر اسرائیلی حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔لندنمیں کئی ہزار مظاہرین نے برطانوی پارلیمنٹ کے قریب مارچ کیا۔ ان کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز تھے جن پر ’’نسل کشی بند کرو‘‘ اور ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کے نعرے درج تھے ۔فلسطین سولیڈیریٹی کمپین کی ڈائریکٹر ایمی شالان نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر مغربی ممالک کی پابندیاں ناکافی ہیں ،لندن پولیس نے بتایا کہ 20 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون بھی شامل ہیں ۔اسرائیل کے حامی یہودی تنظیم ’’اسٹاپ دی ہیٹ یو کے ــ‘‘نے جوابی مظاہرہ بھی کیا۔برلن میں پولیس کے مطابق’’یونائیٹڈ فار فلسطین‘‘ کے زیرِ اہتمام مارچ میں تقریباً ساڑھے 3ہزار افراد شریک ہوئے۔

مظاہرین نے اسرائیل کو جرمنی کی جانب سے اسلحے کی فراہمی اور فوجی معاونت کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ڈبلن میں بھی آئرش فلسطین سولیڈیریٹی کمپین کے زیرِ اہتمام مارچ کیا گیا۔ادھر غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہوگیا، تاہم معاہدے کے بیشتر اہم وعدے تاحال پورے نہیں ہوسکے ۔ ٹرمپ نے 10 اکتوبر 2025 کو جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تعمیر نو کیلئے اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود عملی کام شروع نہیں ہوسکا۔غزہ میں جنگ بندی کے باوجود خوراک کی شدید قلت برقرار ہے ۔فلسطینی صدر محمود عباس نے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات 11 ستمبر 2027 کو بیک وقت کرانے کا صدارتی فرمان جاری کر دیا۔اس سے قبل پارلیمانی انتخابات رواں سال 28 نومبر کو شیڈول تھے ، جبکہ صدارتی انتخابات 2027 کے اوائل میں متوقع تھے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...