نوبیل امن انعام کیلئے ناوی پلے کا انتخاب شرمناک :ٹرمپ

نوبیل امن انعام کیلئے ناوی پلے کا انتخاب شرمناک :ٹرمپ

اعزاز مجھے ملنا چاہیے تھا،ناوی کا نام نہیں سنا،بہرحال مبارک باد:امریکی صدر انعام کے فیصلے نے ناروے پر کبھی نہ مٹنے والا داغ چھوڑ دیا :حامیوں سے خطاب

واشنگٹن،اوسلو(اے ایف پی) امریکی صدر ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کیلئے جنوبی افریقی جج اور انسانی حقوق کی علمبردار ناوی پلے کے انتخاب کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعزاز مجھے ملنا چاہیے تھا۔نیویارک کے شہر سیراکیوز میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انعام کے فیصلے نے ناروے پر کبھی نہ مٹنے والا داغ چھوڑ دیا ہے ۔انہوں نے کہاناوی پلے کا نام پہلے کبھی نہیں سنالیکن بہرحال انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔انہوں نے مزید کہاامریکا جس کی نمائندگی میں بطور صدر کر رہا ہوں، نوبیل امن انعام کا مستحق تھا، لیکن اسے یہ انعام نہیں دیا گیا۔واضح رہے ٹرمپ طویل عرصے سے اس اعزاز کے حصول کی خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں۔

جنوری 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے ٹرمپ نے نوبیل امن انعام جیتنے کی اپنی خواہش کبھی پوشیدہ نہیں رکھی۔ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ، گرین لینڈ جیسے علاقوں میں توسیع پسندانہ عزائم، تارکین وطن کے بارے میں سخت مؤقف اور ذرائع ابلاغ پر تنقید جیسے اقدامات ٹرمپ کے انعام حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔نوبل امن انعام یافتہ اور اقوام متحدہ کی سابق انسانی حقوق سربراہ ناوی پلے نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی)پر امریکا کی نئی پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔اوسلو کے نوبیل امن مرکز میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے 85 سالہ جنوبی افریقی قانون دان نے کہا کہ عالمی عدالتوں، خصوصاً دی ہیگ میں قائم آئی سی سی کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ امریکا نے نوی پلے کو نوبیل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد آئی سی سی پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...