اسرائیل الیکشن:نیتن یاہو، آئزن کوٹ کو اتحادیوں کی تلاش

اسرائیل الیکشن:نیتن یاہو، آئزن کوٹ کو اتحادیوں کی تلاش

دونوں رہنما اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، سیاسی اتحاد نہ بنا تو دوبارہ الیکشن نیتن یاہو منجھے کھلاڑی، عرب جماعتوں سے رجوع کا غیر متوقع راستہ موجود

مقبوضہ بیت المقدس (اے ایف پی) اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے مرکزی حریف گادی آئزن کوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے  میں ناکام رہے ، تاہم دونوں حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل کرنے کے دعویدار ہیں۔ غیر فیصلہ کن نتائج کے بعد دونوں رہنماؤں کو حکومت بنانے کیلئے اپنے سیاسی اتحاد میں مزید جماعتوں کو شامل کرنا ہوگا، بصورت دیگر دوبارہ انتخابات کرانا پڑیں گے ۔نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو و مذہبی اتحادیوں نے حتمی نتائج میں برتری حاصل کی ہے ، تاہم حکومت بنانے کیلئے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ اقتدار برقرار رکھنے کیلئے نیتن یاہو کو حزب اختلاف کی جماعتوں سے رابطہ کرکے حکومت میں شمولیت کی پیشکش کرنا ہوگی، جو ان کیلئے سیاسی پسپائی تصور ہوگی کیونکہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے انہی جماعتوں کو اقتدار سے ہٹانے کا وعدہ کیا تھا۔آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل ڈیموکریٹس جماعت کے سربراہ یائر گولان نیتن یاہو کی پیشکش قبول کرنے پر کم آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سابق اتحادی اور موجودہ ناقد ایوگڈور لیبرمین بھی نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد مسترد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ قابل تصور اتحاد وہی ہے جس میں نیتن یاہو شامل نہ ہوں۔

نفتالی بینیٹ نے بعض شرائط کے تحت نیتن یاہو کے اتحاد میں شمولیت کا اشارہ دیا تھا، تاہم بعد میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اس امکان سے پیچھے ہٹ گئے ۔آئزن کوٹ کی جماعت یاشر کے ساتھ نیتن یاہو کے اتحاد کا امکان بھی کم دکھائی دیتا ہے ۔ 2020ء میں نیتن یاہو اور سینٹرلسٹ رہنما بینی گینٹز نے اختلافات کے باوجود باری باری وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا معاہدہ کیا تھا، تاہم یہ شراکت داری ایک سال بعد ختم ہوگئی۔ آئزن کوٹ ایسی کسی شراکت داری کو متعدد بار مسترد کرچکے ہیں۔نیتن یاہو کے پاس عرب اکثریتی جماعتوں سے رجوع کا غیر متوقع راستہ بھی موجود ہے ۔ انہیں مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی ہیں اور 2015ء اور 2021ء میں بھی عرب جماعتوں سے رابطے کرچکے ہیں۔ دوسری جانب جوائنٹ لسٹ کے یوسف جبارین نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان میں آئزن کوٹ کی حمایت کیلئے تیار ہیں، تاہم حکومت میں شامل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے غزہ جنگ سمیت بعض معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...