امت مسلمہ کا مستقبل علم ، کرداراور اتحاد سے دوابستہ ہے: حافظ نعیم

 امت مسلمہ کا مستقبل علم ، کرداراور اتحاد سے دوابستہ ہے: حافظ نعیم

غزہ عالمی ضمیر کا امتحان، مسلم دنیا کو مظلومیت کے احساس سے نکل کر عملی متبادل پیش کرنا ہوگا:امیر جماعت اسلامی نوجوان تعلیم، تجارت اور انصاف کی جدوجہد میں تعاون کو فروغ دیں :ترک پارلیمنٹیرینز کے استقبالیہ سے خطاب

استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا مستقبل مایوسی، خوف اور تقسیم کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے علم، کردار، خوداعتمادی اور عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوان تعمیر کریں گے ، مسلم دنیا کو اپنے تاریخی ورثے سے رہنمائی لیتے ہوئے موجودہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ٹھوس اور قابل عمل متبادل پیش کرنا ہوں گے ۔وہ استنبول میں ترک  پارلیمنٹیرینز کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ تقریب سے سابق ترک وزیر ڈاکٹر یاسین اکتائے ، ترک ارکان پارلیمنٹ حسن توران اور مہمت ایشن، حکمران جماعت آق پارٹی کے رہنما عثمان نوری اور انسان وقف کے سربراہ مہمت گنئے نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ داخلی کمزوری، فکری جمود، سیاسی انتشار، معاشی انحصار اور بیرونی دباؤ ایسے عوامل ہیں جن سے مسلم دنیا کو سبق سیکھنا چاہیے ،آج انسانیت کو بیک وقت معاشی ناہمواری ، جنگوں، عالمی قوانین کے امتیازی اطلاق جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے غزہ کی صورت حال کو عالمی ضمیر کا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تباہی، جبری بے دخلی، بھوک اور اجتماعی سزا نے عالمی نظام کے انسانی حقوق اور انصاف سے متعلق دعووں پر سوالات اٹھا دئیے ہیں ، مسلمانوں کو اپنی شناخت صرف مظلومیت تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ استعماری مظالم، قبضے ، اسلاموفوبیا اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ایسے متبادل نظام اور عملی حل بھی پیش کرنے چاہئیں جو انصاف، مساوات، رحم، احترام اور انسانی وقار پر مبنی ہوں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری اور ملازمت کا حصول نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے ، جدید سائنسی علوم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے ،اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد کیلئے متحد ہوں ، آئین، قانون، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کا دفاع بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل میڈیا اور قابل تجدید توانائی سمیت جدید شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہاکہ ٹیکنالوجی کو انسانی مسائل کے حل، نجی معلومات کے تحفظ اور غلط اطلاعات کی روک تھام کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے ،نوجوان فلسطینی عوام کا ساتھ دیں ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے نوجوان تعلیم، تجارت، ٹیکنالوجی، ثقافت، امدادی سرگرمیوں اور انصاف کی جدوجہد میں باہمی تعاون کو فروغ دیں ، ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں بچے بھوکے نہ سوئیں ، حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، فلسطین آزاد ہو، کشمیریوں کو انصاف ملے اور اقلیتیں امن و تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں ،مستقبل کی تعمیر ایک امانت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...