ایرانی حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان:تحقیقات

 ایرانی حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان:تحقیقات

26اڈوں پر 115حملے ،ریڈار سے لے کر طیارے ،ہینگر،فوجی رہائشگاہیں تک نشانہ کویت پر مہلک حملے میں 6امریکی فوجی مارے گئے ، دفاعی نظام میں تبدیلیاں کرنا پڑیں دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو امریکی فوجی تنصیبات کو مزید بھاری نقصان پہنچ سکتا:رپورٹ

تہران(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں 26 امریکی فوجی اڈوں اور ان مقامات کو  115 سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی سازوسامان موجود تھا۔ ان حملوں میں اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان تباہ یا متاثر ہوا، جبکہ امریکی فوج کو خطے میں اپنی تعیناتی اور دفاعی نظام میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔اے پی کے مطابق ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے ریڈار اور قبل از وقت خطرے کی نشاندہی کرنے والے آلات کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد حملوں کا دائرہ فوجی طیاروں، ان کے ہینگرز، گوداموں، مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر اور فوجیوں کی رہائشی عمارتوں تک پھیل گیا۔رپورٹ کے مطابق یہ حملے فروری میں جنگ شروع ہونے سے اگست تک کیے گئے ۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور خطے کے چار ایسے حکام سے گفتگو کے بعد نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو حملوں سے متعلق معلومات رکھتے تھے یا خود متاثرہ مقامات کا جائزہ لے چکے تھے ۔امریکی حکومت نے جنگ کے دوران اپنے فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی اور اڈے محفوظ ہیں اور فوج ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ۔اے پی کی تحقیقات کے مطابق ایران نے جنگ کے ابتدائی دو روز میں کویت کے کیمپ عریفجان اور بحرین میں امریکی بحری تنصیب کے ریڈار نظام کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس اور اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر نصب موبائل ریڈار بھی حملوں کی زد میں آئے ۔اردن میں تباہ ہونے والا ایک جدید ریڈار امریکی فوج کے پاس موجود صرف 13 ایسے نظاموں میں سے ایک تھا، اس کی مالیت تقریباً 50 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے ۔ قطر میں بھی ایک انتہائی اہم ریڈار کو شدید نقصان پہنچا جو 2013 میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے معاہدے کے تحت خریدا گیا تھا۔اسلحہ جاتی امور کے ماہر این آر جینزن جونز کے مطابق ان ریڈاروں کو نشانہ بنانے کا مقصد امریکی اور اتحادی افواج کی آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا پتا لگانے اور انہیں روکنے کی صلاحیت کمزور کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں میں کویت سب سے زیادہ متاثر ہوا، تاہم بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔کویت کے علی السالم ایئر بیس پر کم از کم 30 حملے کیے گئے ، جن میں 15 طیارہ ہینگرز، متعدد گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا، یاوہ تباہ ہو گئیں۔کویت کی بندرگاہ شعیبہ پر یکم مارچ کو ڈرون حملے میں6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔ یہ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا سب سے مہلک حملہ تھا۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کے اندر سی آئی اے کے ایک یونٹ کو بھی ایرانی حملے میں نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی حملوں کے بعد خلیج فارس سے اپنے متعدد فوجی اثاثے دوسری جگہ منتقل کر دئیے ہیں، ان میں طیارے ، فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی آلات اور فوجی اڈوں کیلئے ضروری دیگر سازوسامان شامل ہیں۔امریکی دفاعی امور کے ماہر رافیل کوہن نے کہا کہ سستے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملے دنیا کی جدید ترین افواج کیلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے بقول یہ امریکا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہیے ۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو امریکی فوجی تنصیبات کو مزید بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اس صورتحال سے یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اپنے تباہ شدہ فوجی اڈے دوبارہ تعمیر کرے گا یا خطے میں اپنی فوجی موجودگی کا طریقہ ہی تبدیل کرنا پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...