سعودی فوجی اتحاد کا ریاض میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

سعودی فوجی اتحاد کا ریاض میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

شام مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے :شامی وزیر خارجہ یمن کا حوثیوں پر ایرانی مدد سے اسلحہ ، فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرنیکا الزام

ریاض،منامہ(اے ایف پی)سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے میں فضائی دفاعی نظام نے ایک حملہ ناکام بناتے ہوئے ڈرون کو فضا میں ہی تباہ  کردیا۔ فوجی  اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر بتایا کہ ڈرون کو فضا میں ہی روک لیا گیا، ملبہ گرنے سے بھی کوئی زخمی نہیں ہوا۔ شام نے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے ۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کانفرنس کے موقع پر کہا کہ اتحاد میں شام کی شمولیت سے متعلق بات چیت جاری ہے ۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی انصار اللہ گروپ کے بار بار حملوں کی مذمت کرے اور شہریوں و شہری تنصیبات کے تحفظ کیلئے مو ثر اقدامات کرے ۔اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب عبداللہ السعدی نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ عالمی برادری کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے ، تاکہ شہری ہوائی اڈوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں یمن نے کہا کہ حوثی جنگجو سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایران کی مدد سے جدید ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں،یمنی حکومت نے ایران پر حوثی جنگجوؤں کو فوجی مدد فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس کے مطابق ایرانی مدد کے باعث حوثی جنگجو بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتیوں کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...