پولینڈ :آئینی عدالت پر قبضے کا تنازع شدت اختیار کر گیا
صدر کی سیاسی جماعتوں سے ہنگامی مشاورت،وزیراعظم کی جماعت غیر حاضر
وارسا(اے ایف پی ) پولینڈ میں مرکزیت پسند حکومت اور قوم پرست دائیں بازو کے درمیان آئینی عدالت کے کنٹرول پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے ۔ صدر کارول ناوروکی نے ہفتے کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ہنگامی مذاکرات کیے ، تاہم کئی گھنٹے کی مشاورت کے باوجود بحران کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔صدر نے ملک میں داخلی سلامتی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مشاورت طلب کی تھی۔ ایک روز قبل آئینی عدالت کے صدر بوگدان شویچکووسکی کی معطلی کے بعد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی تھی۔پولینڈ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق صدارتی محل میں ہونے والی مشاورت میں قوم پرست، انتہائی دائیں بازو اور حکمراں اتحاد کی بعض جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، تاہم وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی جماعت سوک کولیشن اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔
حکمراں اتحاد میں شامل جماعت دی لیفٹ نے بھی کہا کہ اسے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا اور وہ صدر کو اس تنازع کا فریق سمجھتے ہوئے شرکت نہیں کرتی۔ ٹسک حکومت کئی ہفتوں سے آئینی عدالت کے ججوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ، جنہیں 2015 سے 2023 تک اقتدار میں رہنے والی سابقہ پی آئی ایس حکومت نے مقرر کیا تھا۔ یہ عدالت ماضی میں اکثر یورپی یونین کے قوانین پر پولینڈ کے ملکی قوانین کو فوقیت دیتی رہی، جس پر یورپی یونین نے بھی اعتراض کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس وقت کی قوم پرست حکومت کے بہت قریب ہے ۔یورپی یونین کے حامی وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے 2023 میں انتخابات جیتنے کے بعد برسلز کے ساتھ تنازعات ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم دائیں بازو کے آزاد حیثیت سے منتخب صدر نے عدالت میں نئی تقرریوں کی منظوری روک رکھی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments