بموں کی دھمکیاں، یورپ میں فضائی اور بحری سفر کا نظام ہل کر رہ گیا

بموں کی دھمکیاں، یورپ میں فضائی اور بحری سفر کا نظام ہل کر رہ گیا

متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ، پروازوں کا رخ موڑا گیا ، ایک ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند کرنا پڑا طیاروں، سامان اور مسافروں کی تلاشی ،دھماکا خیز مواد نہیں ملا،اتنی بڑی تعداد میں دھمکیاں ملنا غیر معمولی:ماہرین

لندن (رائٹرز )یورپ میں ایک ہی روز کے دوران کم از کم 10مسافر طیاروں اور اسرائیل جانے والے ایک کروز شپ کو بم کی دھمکیاں موصول ہونے سے فضائی اور بحری سفر کا نظام ہل کر رہ گیا۔ متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ، پروازوں کا رخموڑا گیا اور ایک ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ تاہم ابتدائی تلاشیوں میں کسی طیارے یا جہاز سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں لندن سے آنے والی پولش ایئرلائن ایل او ٹی کی پرواز کو بم کی اطلاع پر معمول کے ہوائی اڈے کے بجائے موڈلن ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔ طیارے میں 181 افراد سوار تھے ۔ مسافروں کو اتار کر طیارے کی تلاشی لی گئی جبکہ ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔اسی دوران کوپن ہیگن سے آنے والی اسکینڈینیوین ایئرلائنز کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ طیارہ وارسا کے چوپن ایئرپورٹ پر بحفاظت اترا، جہاں اس کی تلاشی لی گئی، تاہم کوئی مشتبہ مواد نہیں ملا۔

اٹلی میں روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ جانے والی ریان ایئر کی دو پروازوں کو بھی بم کی دھمکیاں ملیں۔ ان میں سے ڈبلن سے آنے والی پرواز کو اطالوی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار میں لے کر ایئرپورٹ تک پہنچایا۔ دونوں طیاروں، سامان اور مسافروں کی تلاشی کے بعد خطرہ ختم قرار دے دیا گیا۔بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پہنچنے والی دو پروازیں بھی دھمکیوں کی زد میں آئیں۔ ان میں ایک اٹلی کے شہر برگامو اور دوسری ڈبلن سے آرہی تھی۔ دونوں طیارے بحفاظت اترے اور انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے ان کی تلاشی لی۔ اسپین کے شہر مرسیا میں مانچسٹر سے آنے والی ریان ایئر کی پرواز کو بھی بم کی اطلاع پر ہنگامی سکیورٹی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔فضائی سفر کے علاوہ یونان کے جزیرے سیروس کی بندرگاہ پر اسرائیل جانے والے کروز شپ کراؤن آئرس کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ نامعلوم شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاز کے نچلے حصے کے ساتھ دھماکا خیز مواد نصب ہے ۔ پاناما کے پرچم تلے چلنے والے اس جہاز پر 940 مسافر اور عملے کے 597 ارکان سوار تھے اور اسے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ روانہ ہونا تھا۔یونانی کوسٹ گارڈ زنے بم ڈسپوزل عملے ، تربیت یافتہ سراغ رساں کتے اور غوطہ خور کی مدد سے جہاز کی تلاشی شروع کی۔ ابتدائی معائنے میں کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا، تاہم مزید تفصیلی جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔فضائی تحفظ کے ماہرین کے نزدیک ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں پروازوں اور ایک بحری جہاز کو دھمکیاں ملنا غیر معمولی ہے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...