امریکی وزیر دفاغ کرنے کے مطالبات میں شدت ،مواخذے کا اعلان

امریکی  وزیر  دفاغ  کرنے  کے  مطالبات  میں  شدت ،مواخذے  کا  اعلان

پیٹ ہیگسیتھ نااہل اور بدعنوان:جیسن کرو ، ریپبلکن رکن میسی بھی انکے مواخذے کے حامی،استعفیٰ چاہتے سزائے موت کی لائیو سٹریمنگ ،یمن میں فوجی حملے ،اعلیٰ فوجی افسروں کی برطرفیاں جیسے تنازعات کا سامنا

واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ایران جنگ میں کردار اور ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے بعد عہدے پر برقرار رہنے کے حوالے سے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے ۔ کانگریس میں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیموکریٹس نے ان کے  خلاف تحقیقات کا عندیہ دیا ہے ، جبکہ ریپبلکن ارکان بھی انتخابی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دے رہے ہیں، جس کے وہ حامی اور اہم ترجمان رہے ہیں۔سابق ٹی وی میزبان اور نیشنل گارڈ کے افسر پیٹ ہیگسیتھ نے 2025 کے اوائل میں وزارت دفاع کا منصب سنبھالا تھا۔ اس دوران انہیں متعدد تنازعات اور سکینڈلز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک ان کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ وزیر دفاع کی تبدیلی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ہیگسیتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔تاہم ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ایک سبب ایران جنگ کو قرار دیا ہے ۔ ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن جیسن کرو نے واضح کیا ہے کہ وزیر دفاع نااہل اور بدعنوان ہیں اور قومی سلامتی اور امریکی فوجیوں کی حفاظت کو نقصان پہنچا رہے ہیں،وہ پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف کارروائی کریں گے ۔ اسی کمیٹی میں ڈیموکریٹس کے سینئر رکن ایڈم سمتھ نے کہا کہ نئی کانگریس کی اولین ترجیح محکمہ دفاع اور ٹرمپ انتظامیہ کی سخت نگرانی ہوگی، جس میں ایران کے خلاف جنگ بھی شامل ہے ، جسے انہوں نے غیر قانونی قرار دیا۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے جمعرات کو کہا کہ ہیگسیتھ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے تحقیقات شروع کرنے والے سیاست دانوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے ۔ ان کے مطابق وزیر دفاع ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک محکمہ دفاع کی قیادت کرنے کیلئے سو فیصد پُرعزم ہیں۔ہیگسیتھ کو اپنی ہی جماعت کے ایک رکن، کانگریس مین تھامس میسی کی جانب سے بھی مخالفت کا سامنا ہے ۔

میسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ایوانِ نمائندگان کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر وزیر دفاع کے مواخذے کی قرارداد پیش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہیگسیتھ کے مستعفی ہونے کی صورت میں وہ مواخذے کی قرارداد دوبارہ پیش نہیں کریں گے ۔ میسی اس سے قبل بھی ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم ریپبلکن ارکان نے ووٹنگ سے پہلے ہی ایوان کا اجلاس ملتوی کرا دیا تھا۔میسی نے کہا کہ ان کی جانب سے پہلے پیش کی گئی مواخذے کی قرارداد اس سے کہیں نرم تھی جس کا سامنا ہیگسیتھ کو ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول ڈیموکریٹس تحقیقات کے لیے سماعتیں اور کارروائیاں کریں گے ۔وزارت دفاع کا منصب سنبھالنے کے بعد ہیگسیتھ مختلف تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ حالیہ معاملہ ایک ایسے منصوبے سے متعلق تھا جس میں فوجی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کی تجویز شامل تھی۔ صدر ٹرمپ نے بالآخر یہ منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔عہدہ سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہیگسیتھ کو یمن میں فوجی حملوں سے متعلق تنازع کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے انکشاف کیا تھا کہ اس کے مدیر اعلیٰ کو غلطی سے ایک سگنل چیٹ گروپ میں شامل کر لیا گیا تھا، جس میں ہیگسیتھ اور دیگر امریکی حکام یمن میں ہونے والی فوجی کارروائی پر گفتگو کر رہے تھے ۔ وزیر دفاع نے اس چیٹ میں حملوں کے وقت سے متعلق پیغامات بھی بھیجے تھے ، حالانکہ کارروائی ابھی ہونا باقی تھی۔کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث کشتیوں کے خلاف امریکی حملے بھی تنازع کا باعث بنے ۔ خاص طور پر گزشتہ سال ایک کارروائی پر سوالات اٹھے جس میں حملے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد کو ایک مزید حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ہیگسیتھ کے دور میں امریکی فوج کے متعدد اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے ہٹایا گیا، جن میں ملک کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے پر فائز چارلس ‘سی کیو’ براؤن بھی شامل تھے ۔ ان برطرفیوں کی وجوہات اکثر عوامی سطح پر واضح نہیں کی گئیں۔ایڈم سمتھ کے مطابق کشتیوں کے خلاف امریکی حملے ، ٹرمپ کی جانب سے امریکی شہروں میں فوج کی تعیناتی اور مسلح افواج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی نئی کانگریس کی تحقیقات کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...