کینیا: 190بچوں کا قتل،مذہبی رہنما کو 200 سال قید
نیروبی(اے ایف پی)کینیا کی عدالت نے مذہبی فرقے کے سربراہ پال میکنزی کو 190 بچوں کے قتل کے جرم میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی۔
بچوں کو مبینہ طور پر اس کے حکم پر بھوکا رکھ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا اور لاشیں جنگل میں دفن کردی گئی تھیں۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر تقریباً 500 افراد کی ہلاکت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے ۔جسٹس ڈیانا کاویدزا نے جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ پال میکنزی کو بھوکا رکھ کر قتل کرنے کے جرم میں 100 سال اور براہ راست قتل کے جرم میں مزید 100 سال قید کی سزا دی گئی ہے ۔استغاثہ کے مطابق پال میکنزی مشرقی کینیا کے ساحلی علاقے میں واقع ایک جنگل کے قریب قیامت سے متعلق عقائد پر مبنی مسیحی فرقہ چلاتا تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت دی تھی کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میں داخل ہونے کے لیے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر موت کے حوالے کردیں۔اس کے ساتھیوں نے بھی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متاثرین کو دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں جنگل میں کمزور اور لاغر لاشیں اتھلی قبروں اور بیت الخلا کے گڑھوں سے برآمد ہوئیں، جبکہ بعض افراد کو زندہ دفن کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments