ایران سے متعلق 2ہفتے میں فیصلہ:ٹرمپ،تہران کی 7شرائط
تہران ،واشنگٹن(نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کرے گا کہ ایران کے حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں یا کسی ممکنہ معاہدے کی توثیق کی جائے ۔
تہران نے 7 شرائط پر مشتمل نئی تجاویز امریکا کے حوالے کردیں اور کہا ہے کہ نئی جارحیت سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔ ادھر مکہ مکرمہ کی طرف آنے والا ڈرون تباہ کردیا گیا،عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھ کر پھر 100 ڈالر بیرل کے قریب پہنچ گئی۔تہران نے واشنگٹن کو جوہری معاہدے سے متعلق 7 شرائط پر مشتمل نئی تجاویز بھیج دی ہیں، جن کے ذریعے ایران اپنے جوہری پروگرام اور دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کیلئے مذاکرات کی نئی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے ۔پہلی شرط میں کہا گیا ایران سمیت لبنان اور دیگر محاذوں پر جاری جنگی کارروائیاں بند کی جائیں۔دوسری شرط ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیاں ختم کی جائیں۔تیسری شرط ایران پر عائد تمام امریکی پابندیاں اٹھائی جائیں۔چوتھی شرط بیرونِ ملک منجمد ایرانی مالی اثاثے بحال کیے جائیں۔پانچویں شرط مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کم کی جائے ۔چھٹی شرط ایران کو جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کیا جائے اور ساتویں شرط ہے کہ ایرانی سر زمین پر امریکی حملے بند کیے جائیں۔ایرانی تجاویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھیجی گئی ہیں جبکہ امریکی حکام ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فی الحال واشنگٹن کی جانب سے تجاویز کی منظوری یا ایران کی شرائط قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی جارحیت یا مہم جوئی کی صورت میں آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی،امریکا کے پاس آبنائے ہرمز کھلوانے کا واحد راستہ ایران کی 7 شرائط پر عمل درآمد ہے ۔
ادھر قطری حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے ،جس میں خطے کی تازہ صورتحال ، بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی کوششوں بالخصوص قطر کی ان ثالثی کوششوں پر بات چیت ہوئی جن کا مقصد متحارب فریقوں کے مؤقف میں قربت پیدا کرنا اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔قطر کے امیر نے تنازعات کے حل کیلئے مکالمے کے تسلسل اور سفارت کاری کو مؤثر ذریعہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنھوں نے کہا کہ یہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے ، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہازرانی کی آزادی کو برقرار رکھنے اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران جن تجاویز پر غور کر رہا ہے ، ان کی تفصیلات اہم نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے ، تہران واشنگٹن کی منظوری کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔انہوں نے کہا وہ نہیں چاہتے کہ ایران کی باقیات کو تباہ کیا جائے ، تاہم مجھے ایسا کرنا پڑ سکتا ہے ، امر یکا نے سات ماہ قبل ایران میں اپنی مداخلت شروع ہونے کے بعد سے ان تمام معاملات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جن پر وہ کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔ واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا ایران کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں یا کسی ممکنہ معاہدے کی توثیق کی جائے ،آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم ایران کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے ۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی۔یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عباس عراقچی حالیہ دنوں میں سعودی عرب، عمان اور قطر کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ٹیلیفونک بات چیت کر چکے ہیں۔دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران 2 آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی،پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دونوں ٹینکرز غیر مجاز راستے سے گزر رہے تھے اور بارودی سرنگ سے ٹکرا گئے ۔ادھر امریکا کے 2 انتہائی جدید جاسوس طیاروں میں سے ایک برطانیہ پہنچ گیا، جسے دشمن کے ریڈار نظام کی نشاندہی اور نگرانی کی صلاحیت حاصل ہے ۔ طیارے کی برطانیہ آمد ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران پر امریکا کے ممکنہ نئے فوجی حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔آر سی 135 یو کومبیٹ سینٹ نامی جاسوس طیارے کوبحرِ اوقیانوس عبور کرتے ہوئے برطانیہ پہنچتے ٹریک کیا گیا، جہاں اس نے انگلینڈ کی کاؤنٹی سفوک میں واقع آر اے ایف ملڈن ہال ایئر بیس پر لینڈنگ کی۔روایتی جاسوس طیاروں کے برعکس آر سی 135 یو جدید الیکٹرانک نگرانی کے نظام سے لیس ہے ، جو دوسرے ممالک کے فوجی ریڈار نظام کا سراغ لگانے ، ان کی شناخت کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
اس طیارے سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات امریکی افواج کو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو سمجھنے اور فوجی کارروائیوں کے دوران ان سے بچنے یا انہیں ناکارہ بنانے کی حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیتی ہیں۔طیارے کی اگلی منزل اور آپریشنل ذمے داریوں کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ فوجی مبصرین نے امکان ظاہر کیا کہ یہ طیارہ بعد ازاں مشرقِ وسطی کا رخ کر سکتا ہے ، تاہم برطانیہ میں اس کی موجودگی کسی فوری حملے کا ثبوت نہیں۔امریکی فضائیہ کے مطابق کومبیٹ سینٹ طیارے امن کے زمانے کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیوں کے دوران بھی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کم از کم اپنے دو اہم میزائل اڈوں کے قریب بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے ، حالیہ مہینوں میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے نقصان اٹھانے والے اڈوں کی مرمت بھی کی جا رہی ہے ۔برطانوی انٹیلی جنس کمپنی ایم اے آئی اے آر کے تجزیہ کاروں کے مطابق نومبر میں ریکارڈ کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں تہران کے قریب کرج میں واقع گارمدرہ فوجی اڈے اور شمالی ایران میں واقع شاہرود اڈے پر کھدائی اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے شواہد دیکھے جا سکتے ہیں۔کم از کم 12 دیگر فوجی مقامات، جن میں میزائل کمپلیکس اور فضائی اڈے شامل ہیں، میں بھی مرمت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی ایران میں عراقی سرحد کے قریب کرمانشاہ میزائل اڈے پر تباہ شدہ عمارتوں پر نئی چھتیں ڈال دی گئی ہیں جبکہ تہران کے مشرق میں واقع پرچین فوجی کمپلیکس میں نقصان زدہ عمارتوں اور ملبے کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ یہ کمپلیکس متعدد فضائی حملوں کے باوجود بار بار مرمت کیا گیا ہے ۔
دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ مکہ ریجن کی جانب آنے والے ایک ڈرون (یو اے وی) کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ عالمی منڈی میں جمعے کی صبح تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا اور خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی کانگریس کے انتخابات کے نتائج کے اثرات کے باعث توانائی کی منڈیوں میں گز شتہ دو روز کے دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی تھی تاہم جمعے کی صبح شمالی سمندر کے برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 99.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔یورپی سٹاک مارکیٹوں میں بھی فروخت کا دباؤ جمعے کی صبح برقرار رہا، اگرچہ وہاں گراوٹ کی شدت امریکا اور ایشیا کے مقابلے میں کم رہی۔ابتدائی کاروبار کے دوران برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای 100 اور جرمنی کے ڈیکس انڈیکس تقریباً 1.5 فیصد نیچے آ گئے جبکہ فرانس کے کیک 40 انڈیکس میں 1.1 فیصد کمی دیکھی گئی۔اس کے مقابلے میں امر یکا اور ایشیا کی بعض اہم مارکیٹوں میں 5 سے 6 فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ کا اثر عموماً زیادہ نمایاں ہوتا ہے ۔تاہم یورپ میں تقریباً تمام شعبوں کے حصص دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر متعدد پیغامات میں سٹاک مارکیٹ میں آنے والی گراوٹ کا ذمہ دار اپنے سیاسی مخالفین کو ٹھہرایا ، انہوں نے کہا انتخابی نتائج کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ کی تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک دن دیکھنے میں آیا۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ۔ ہمیں ایسی سطح تک پہنچانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور پھر یہ ہوا۔ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ‘یاد رکھیں، یہ ریپبلکنز نہیں تھے بلکہ ڈیموکریٹس تھے ۔ تاہم خوف زدہ نہ ہوں، ہم جلد ہی، کسی نہ کسی طریقے سے ، پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments