گلوکاری کے بعد اداکاری میں بھی جوہر دکھاؤں گی، حدیقہ کیانی

تفریح
لاہور: (دنیا میگزین) حدیقہ نے گلوکاری کے سفر کے بعد نیا سفر اداکار ی کا شروع کیا ہے جس میں وہ اپنی فنی صلاحیتوں کو منوانے کے جنون میں پہلا سیریل ’’رقیب سے‘‘ کررہی ہیں۔
پاکستان میوزک انڈسٹری پر ایک نظر ڈالی جائے تو بہت کم ایسے گائیک ملیں گے جو نوعمری میں میوزک کی دنیا میں آئے اور اس کے اسرار و رموز سے آگاہی ملنے کے بعد جب عملی طور پر اس شوق کو روزگار کا ذریعہ بنایا تو وہ دنیا بھر میں اپنی گائیکی سے شہرت پاگئے ۔
ان ہی سر وتال کے شیدائیوں میں حدیقہ کیانی کا نام بھی آتا ہے جنہوں نے 90ء کے عشرے کے اوائل میں ٹی وی ہوسٹ کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کیا اور پی ٹی وی سے آن ایئر جانے والے بچوں کے میوزک پروگرام ’’آنگن آنگن تارے‘‘ میں ناصرف میزبانی کی بلکہ گلوکارہ کی حیثیت سے بے شمار گانے بھی گائے۔
اس شو میں حدیقہ کو امجد بوبی اور خلیل احمد جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے اور میوزک کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کاموقع ملا جس نے ان کی گلوکاری کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی اور وہ آگے چل کر باقاعدہ طور پر پروفیشنل گلوکارہ بننے میں کامیاب ہو پائیں۔
کیریئر کے شروع میں حدیقہ پر نازیہ حسن کی نقالی کا الزام لگا تاہم اس الزام کی پروا نہ کرتے ہوئے حدیقہ نے سُر وسنگیت میں محنت جاری رکھی اور یوں اس بات کو غلط ثابت کیا کہ وہ نازیہ حسن یا کسی اور کی نقالی کرتی ہیں‘ اس گلوکارہ نے میوزک میں نت نئے تجربات کیے ہیں جس سے اسے گائیکی کی دنیا میں منفرد مقام ملا ہے۔
پہلی البم راز،سے لے کر اب تک کا حدیقہ کا گائیکی کاسفر بیش بہا کامیابیوں سے عبارت ہے اور پروفیشنل کی حیثیت سے وہ کیریئر کی سلورجوبلی منا چکی ہیں۔ ان کا پہلا ا لبم 95 ء میں ریلیز ہوا تھا۔گزشتہ برس ریلیزہونے والا البم ’’وجد‘‘ بھی حدیقہ کی کچھ اور صلاحیتوں کو اجاگر کرتا دکھائی دیتا ہے۔95 ء میں البم راز کے ذریعے باقاعدہ سنگنگ کا آغاز کرنے والی حدیقہ کے کریڈٹ پر کئی زبردست اور سپرہٹ گیت ہیں جن میں جانِ جاں، مانے دی موج، دوپٹہ، بوہے باریاں وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ میوزک کی دنیا میں سلور جوبلی مکمل کرنے کے بعد اب حدیقہ کیانی نے اداکاری کی جانب نیا سفر شروع کیا ہے۔
ان کا پہلا ٹی وی ڈرامہ سیریل ’’رقیب سے ‘‘ نئے برس میں ان کے فینز کے لئے ایک چونکا دینے والی خبر ہے ۔ وہ مذکورہ سیریل میں جلوہ گر ہیں اکثر ناظرین انکو شناحت نہیں کرسکیں گے کہ یہ گلوکارہ حدیقہ کیانی ہیں۔ ان سے کی گئی گفتگو میں حدیقہ سے میوزک کے علاوہ ذاتی زندگی پر بھی بات کی گئی۔ حدیقہ کے کیریئر کے دوران ان کے کریڈٹ پر کئی میوزک البمز شامل ہیں جن میں راز کے علاوہ روشنی‘ رنگ‘ رف کٹ‘ آسمان‘ اور وجد‘ نمایاں ہیں۔میوزک ورلڈ میں آنے سے پہلے حدیقہ بیوٹی کے شعبے میں بھی کام کرچکی ہیں، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’کئی بیوٹیشنز کے ساتھ کام کیا ہے اوران کی تکنیکس کو بہت دھیان سے دیکھا ہے، اس شعبے میں بطور بیوٹیشن نام بنانا چاہتی تھی اور اسی لیے کئی معروف اسٹائلسٹس جیسے کہ نبیلہ‘ طارق امین اور خاور ریاض وغیرہ کے ساتھ کام کیا۔ اپنے ہنر کو فیملی کی کئی دلہنوں پر بھی آزما سکتی ہوں کہ اگر میوزک ورلڈ میں نام نہ بناتی تو حسن کی دنیا میں ضرور اپنی پہچان بنا سکتی تھی‘‘۔اسی صلاحیت کی وجہ سے حدیقہ نے اپنے کئی ویڈیوز کی اسٹائلنگ خود دی ہے۔ وہ ایک نرم گفتار اور ہر معاملے میں کھل کر رائے دینے والی گلوکارہ ہیں لہٰذا لگی لپٹی رکھے بغیر جو چاہتی ہیں کہہ ڈالتی ہیں۔
میوزک کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ آج تک کسی کو نہیں ہوسکا اور عمر گزر جاتی ہے لیکن اس کی انتہا ختم نہیں ہوتی سو ایک فنکار تمام عمر میوزک کے اس سمندر میں غوطے کھاتا رہتا ہے اور ہر بار اسے کوئی نہ کوئی نیا ہیرا ملتا ہے۔حدیقہ کا میوزک اور آواز یوں تو نوجوانوں کے لیے ہے لیکن وہ خود کہتی ہیں کہ ہر عمر کے شخص کی پسندیدہ بننے کے لیے وہ اپنا میوزک استعمال کرتی ہیں‘ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ٹھیک ہے میرے گانوں کو نوجوان زیادہ سنتے ہیں لیکن چاہتی ہوں کہ ہر ایک کے ذوق و مزاج کے مطابق گاؤں لیکن پھر بھی میرا فوکس نوجوانوں پر ہی ہے کیونکہ یہ نسل انٹر نیٹ سمیت سوشل میڈیا پر بہت زیادہ سرگرم ہے اور ہر وقت نت نئے میوزک کی تلاش میں رہتی ہے ۔‘‘ حدیقہ پلاننگ پر یقین نہیں رکھتیں بلکہ وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہیں اور ہر گزرتے دن میں جو کچھ اس کے حصے میں آتا ہے اسے قبول کرتی ہیں۔
بولی ووڈ انڈسٹری میں گانے کے لیے ہر گلوکار مرا جاتا ہے لیکن حدیقہ کو وہاں جانے کا کچھ ایسا خاص کریز نہیں، اس بارے میں ان کا کچھ یوں کہنا تھا’’ٹھیک ہے بولی وڈ کی مارکیٹ بہت بڑی ہے لیکن وہاں پر کام کرنے کے لیے ہمیں بطور گلوکار اچھے پروجیکٹس کے ساتھ جانا چاہیے تاکہ ورتھ بنے، بولی ووڈ میں کام اگر کیا تو کسی اچھے گیت کے ساتھ ہی منظر پر آؤں گی تاکہ اپنی اہمیت جتا سکوں لیکن اس انڈسٹری میں کام کے لیے مری نہیں جارہی، ٹھیک ہے اگر کبھی عمدہ آفر آئی تو اس بارے میں ضرور سوچوں گی۔‘‘ بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہماری اس منفرد گلوکارہ کو بولی ووڈ سے ایک اچھی آفر مل چکی تھی، اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے حدیقہ نے بتایا ’’ہٹ مووی جب وی میٹ کے ایک گانے یہ عشق ہے…‘کے لیے مجھے میوزک ڈائریکٹر پریتم نے اپروچ کیا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اس گیت کو گاؤں مگر ان دنوں کچھ مصروف تھی لہٰذا یہ گانا نہیں گاسکی ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیت کے لیے پریتم کو کرینہ کپور نے ہی میرا نام تجویز کیا تھا اور اس بات پر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ بولی ووڈ کے بجائے حدیقہ اپنی مارکیٹ میں مصروف رہنا چاہتی ہیں اور ان کا مین فوکس ڈیجیٹل ورلڈ ہے جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہے چنانچہ وہ اس شعبے میںمصروف رہ کر بہت کچھ کرنا چاہتی ہے ، بقول اس کے‘ ڈیجیٹل ورلڈ مستقبل ہے اور اس پر فوکس کرنا چاہیے کیونکہ اس کے ذریعے آپ جلد ہی دنیا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
آج اس گلوکارہ کو میوزک ورلڈ میں 25 برس ہوچکے ہیں تاہم جن دنوں انہوں نے میوزک کو کیریئر بنایا،اس وقت بہت کم لڑکیاں اس فیلڈ میں آنے کی ہمت کرتی تھیں اور صنفِ نازک کا گلوکاری کی طرف آنا عام سی بات نہیں تھی سو اس وقت میوزک کو اپنانا اور پھر ہمت و حوصلے سے آگے بڑھنا ایسی بات ہے جس پر حدیقہ کو ہمیشہ سے ناز رہا ہے کہ ایسے ماحول میں جب نہ تو میڈیا اتنا بوم پر تھا اورنہ ہی انٹرنیٹ کا دور تھا ، اس وقت محض اپنی محنت کے بل بوتے پر نام بنانا چھوٹی بات نہیں تاہم اس پروفیشن میں ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے اور ایسا ہی کچھ حدیقہ کو بھی سہنا پڑا کہ میوزک ورلڈ میں مصروفیت نے ان کی ازدواجی زندگی کو متاثر کیا اور یوں وہ اس معاملے میں ناکام ٹھہری یعنی ان کی شادی چل نہیں پائی، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے حدیقہ نے کہا ’’شوبز ورلڈ میں ایک لڑکی کے لیے کیریئر کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس سے ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے خاص طور پر شادی کے بعد بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اگر آپ کو لائف پارٹنر ایسا مل گیا جس سے ذہنی ہم آہنگی ہو گئی پھر تو ٹھیک ورنہ ازدواجی زندگی میں مسائل جنم لینے لگتے ہیں اور پھر ایک لڑکی کے لیے دو ہی راستے بچتے ہیں کہ یا تو وہ گھریلو لائف کو بچائے یا پھر یہ پروفیشن چھوڑ دے۔‘‘ حدیقہ کی ایک نہیں بلکہ دو شادیاں ناکام ہوئی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ وہ یہی بتاتی ہیں کہ عموماً اس سے شادی کرنے والے مردوں نے اسی لیے اسے لائف پارٹنر بنایاکہ وہ حدیقہ کیانی تھی جبکہ شوہر کی حیثیت سے زندگی میں آنے والے یہ مرد اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ میوزک ورلڈ ایک الگ ہی جگہ ہے اور یہ شہرت وپیسے سے بڑھ کر بھی بہت کچھ معنی رکھتی ہے،
انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ حدیقہ کی زندگی میں میوزک کیا اہمیت رکھتا ہے لہٰذا اسی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی دونوں بار ناکام ہوگئی۔ایک پاپ اسٹار کی حیثیت سے اپنی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے حدیقہ نے کہا ’’شہرت عجیب چیز ہے جو کئی حوالوں سے اچھی تو ہے لیکن ساتھ ہی بہت سی ایسی چیزیں بھی شہرت کے ساتھ لگی ہوتی ہیں جن سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا جیسے کہ ایک مشہور شخص کی زندگی پر لوگوں کی نظر لگی رہتی ہے،شروع میں جب وہ اس تجربے سے گزریں تو خاصی پریشان ہوجاتی تھی کہ لوگ آپ کی ذاتی زندگی کی کھوج میں لگے رہتے ہیں بہرحال گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس زندگی کی عادی ہوگئی ہوں اور اب مجھے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اس وقت اچھا لگتا ہے جب لوگ آپ سے آٹو گراف لیتے ہیں لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ اکثر ایسے افراد سے واسطہ پڑتا ہے جو آپ کو عجیب انداز سے گھورتے ہیں اور کچھ ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں جو مناسب نہیں ہوتے سو ان چیزوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے کہ یہ اس فیلڈ کا لازمی حصہ ہیں۔
حدیقہ کی شادیاں تو ناکام ہوئیں اور وہ حقیقی ماں نہیں بن سکیں لیکن انہیں بچوں سے بے حد محبت ہے لہٰذا ایک بچے کو گود لیا ہوا ہے جس کا نام نادِ علی رکھا، وہ بچہ اب تقریباً 14 برس کا ہوچکا ہے.اس لے پالک بچے کے حوالے سے بات کرتے ان کا کہنا تھا’’نادِ علی کو بھی میوزک کا شوق ہے اور اسے ڈرم بجانا پسند ہے سو جب وہ یہ کام کرتا ہے تو اسے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ نادِ علی جب چھوٹا تھا تو اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھا کرتی تھی اور جہاں بھی کہیں ایک دن سے زیادہ کے لیے جاتی تو نادِ علی کو ضرور ہمراہ لے جاتی‘ وہ ہمیشہ سے میری ترجیح رہا ہے اور اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی ممی سے ہے۔ وہ میرے لیے سب کچھ ہے۔‘‘ حدیقہ کو نت نئی زبانیں سیکھنے کا بھی بے حد شوق ہے خاص طور پر وہ پشتو کی دیوانی ہیں اور اسی لیے انہوں نے ایک پشتو گانا ’’جاناں‘‘ بھی گایا ہے جوکہ بے حد مشہور ہوا اور یوٹیوب پر اسے خوب دیکھا گیا۔ حدیقہ چاہتی ہیں کہ میوزک میں جس طرح پنجابی کو شہرت حاصل ہے،ایسے ہی پشتو کو بھی مقبولیت مل جائے تاکہ لوگوں کو اس زبان کے نت نئے رنگوں کا اندازہ ہو،اس بارے میں ان کا کہنا تھا’’نئی نئی زبانوں کے بارے میں جاننے کا بے حد شوق ہے اور اسی وجہ سے یہ راز کھلا ہے کہ ہر زبان کا اپنا ایک رنگ و احساس ہوتا ہے۔گلوکارہ کی حیثیت سے بات کروں تو یہی کہوں گی کہ زبان کی میوزک میں بہت اہمیت ہے جیساکہ ترکی میوزک میں خاص احساس پایاجاتا ہے تو چائنیز میوزک بہت چیلنجنگ ہے۔
مختلف زبانوں سے حدیقہ کی محبت ہی کا نتیجہ ان کا حالیہ البم ’’وجد‘‘ ہے جس میں کئی علاقائی زبانوں کے گیت مختلف رنگوں کی صورت موجود ہیں سو اسی لیے یہ البم ان دنوں میوزک کے متوالوں میں خوب مشہور ہورہا ہے! اس البم میں حدیقہ نے کچھ نئے تجربات کیے ہیں اور وہ الگ ہی روپ میں دکھائی دیتی ہیں جسے ان کے چاہنے والوں نے خوب پسند کیا ہے۔دو عشروں پر پھیلے ان کے کیریئر کے دوران کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ وہ کسی تنازع میں الجھی ہوں، چنانچہ جب کچھ عرصے پہلے حدیقہ کے حوالے سے یہ چونکا دینے والی خبر منظر عام پر آئی کہ انہیں لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر کوکین اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے توبہت سے لوگ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے تاہم یہ حیرانی اس وقت تک ہی قائم رہی جب حدیقہ نے منظر پر آکر کہا کہ یہ خبر سراسر غلط ہے اور وہ اس وقت لندن میں نہیں، پاکستان میں موجود ہیں یوں ان کے پرستاروں نے سکون کا سانس لیا۔یہ جھوٹی خبر ایک برطانوی ویب سائٹ کے ذریعے پھیلی تھی۔