تازہ اسپیشل فیچر

کوئی ڈیل نہ ڈھیل

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) ملک میں ڈیل اور ڈھیل کی خبریں زیر گردش ہیں اور ماضی کے کچھ کرداروں کے احتساب کے بیانیے کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔

میاں نواز شریف کے ساتھ وطن واپسی پر کیا سلوک ہو گا؟ نگران حکومت اور مسلم لیگ( ن) آمنے سامنے ہیں، محمد علی درانی کی صدرِ مملکت عارف علوی سے ملاقات ہوئی تو چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ شاید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بالواسطہ مبینہ ڈیل کا عمل شروع ہو رہا ہے۔

محمد علی درانی کی تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقاتوں کا تاثر یہ لیا جانے لگا کہ انہیں مقتدر حلقوں کی آشیر باد حاصل ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے حکم نے ان خبروں کو تقویت دی اور اڈیالہ جیل منتقلی کو بھی بات چیت کیلئے گراؤنڈ بنانے سے تعبیر کیا گیا۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف کی تین متحرک خواتین کارکنوں کی عارضی رہائی نے بھی قیاس آرائیوں کو بڑھاوا دیا اور اس تمام صورتحال کو مبینہ مفاہمت کے ساتھ جوڑا جانے لگا۔ یہ بھی بیانیہ بنایا جانے لگا کہ شاید 9 مئی کے واقعات کے ذمہ دار وں کے ساتھ کوئی نرمی برتی جائے گی، مگر ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف یا ان کی جماعت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں کی جا رہی۔ ریاست اپنے اس مؤقف پر پوری طرح قائم ہے کہ 9 مئی کے سانحے کو نہیں بھلایا جاسکتا اور اس کے ذمہ داروں کو قانون کا سامنا ہر صورت کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب مسلم لیگ( ن) کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے 2017ء کے کرداروں کے احتساب کا بیانیہ سر اٹھاتے ہی دم توڑنے لگا۔ میاں نواز شریف نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور سپریم کورٹ کے تین سابق ججز کے احتساب کا مطالبہ کیا تو جڑواں شہروں سے جانے والے ردعمل نے لندن تک واضح پیغام دیا کہ انہیں اس بات کی اجاز ت نہیں دی جاسکتی۔

میاں نواز شریف کا اصل بیانیہ یہ ہے کہ اگر 2017 ء میں انہیں نااہل کر کے نظام کو ڈی ریل نہ کیا جاتا اور تحریک انصاف کی حکومت نہ لائی جاتی تو ملک کے معاشی حالات یہ نہ ہوتے۔ اس لیے انہیں مسند اقتدار سے ہٹانے والی شخصیات کا احتساب کیا جائے گا۔

میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اپریل 2022ء میں قائم ہونے والی پی ڈی ایم حکومت کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں ہیں، (ن) لیگ کہتی ہے کہ اپریل 2022ء سے اگست 2023ء تک چلنے والی حکومت میں مجبوری کے باعث آنا پڑا، معاشی صورتحال کی خرابی کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف تھی مگر عوامی ردعمل کو دیکھا جائے تو وہ پی ڈی ایم حکومت کے اس دعوے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور( ن) لیگ سمیت پی ڈی ایم کی جماعتوں کو 16 ماہ کی اس حکومت کی قیمت اپنی مقبولیت کھونے کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔

یہی وہ مشکل ہے جس کے باعث (ن) لیگ اپنے بیانیے کو 2017ء کی صورتحال سے جوڑنا چاہتی ہے، مقتدر حلقوں کی جانب سے واضح پیغام کے بعد (ن) لیگ اپنے اس بیانیے سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور گزشتہ روز (ن) لیگ کے متحریک رہنما میاں جاوید لطیف کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس نے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی۔

میاں جاوید لطیف نے کہا کہ( ن) لیگ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نہیں بلکہ 9 مئی کے ذمہ داران کا احتساب چاہتی ہے، اس صورتحال میں یہ بات حیران کن بات یہ ہے کہ ایک جانب جہاں ملک میں انتخابی ماحول بننا شروع ہو گیا ہے کسی بھی جماعت کے پاس ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی منشور نظر نہیں آرہا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے معیشت، مہنگائی اور توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہ تو کوئی ٹیم ہے نہ ہی تیاری۔

یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اصل ایشوز پر بات کرنے کی بجائے ملکی حالات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں، ایسے میں (ن) لیگ اگر احتساب کے بیانیے سے پیچھے ہٹتی ہے تو اس کے لیے ایک ایسے وقت میں نئے بیانیے کے ساتھ عوام میں جانا انتہائی مشکل ہو گا جب عوام تاریخ کی بدترین مہنگائی میں پس چکے ہیں اور وہ اس کا ذمہ دار پی ڈی ایم کی حکومت کو سمجھتے ہیں۔

میاں نواز شریف کی 21اکتوبر کو واپسی کے دن قریب آچکے ہیں، نگران حکومت کا بھی امتحان ہے کہ وہ میاں نوازشریف کی واپسی پر ان کے ساتھ کیا سلوک کرے، نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے ٹی وی انٹرویو میں بیان پر( ن) لیگ نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد کہاں جانا ہے فیصلہ عوام کریں گے۔

اپنے وضاحتی بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی رنگ دیا گیا، نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ خوش آئند ہے، نگران حکومت کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، معاملات کو حقیقت کے آئینے سے دیکھنا ہو گا، ( ن) لیگ کا پلان ہے کہ میاں نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد مینار پاکستان جا کر جلسہ کریں اور اگلے روز عدالت جائیں مگر حکومتی سطح پر تاحال یہ طے نہیں ہو سکا کہ میاں نواز شریف کے وطن لوٹنے پر ان کے ساتھ قانونی طور پر کیا سلوک ہو گا؟

کیا (ن) لیگی قائد کو حفاظتی یا راہداری ضمانت ملے گی ؟ ضمانت نہ ملنے پر کیا میاں نواز شریف کو ایئرپورٹ سے گرفتار کیا جائے گا؟ کیا انہیں مینار پاکستان پر جلسے میں شرکت کی اجازت ملے گی؟ میاں نواز شریف اگر گرفتار ہوتے ہیں تو انہیں کتنا عرصہ جیل میں رہنا ہو گا؟ اگر ضمانت نہ ملنے کے باجود نواز شریف کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی اور انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو ایک نئی بحث جنم لے گی کہ نگران حکومت کی سطح پر ان کی سہولت کاری کی گئی اور لیول پلینگ فیلڈ کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھیں گی۔

ان سوالوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال تا حال برقرار ہے، البتہ ایک چیز واضح ہوچکی ہے کہ ملک میں انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہونے جارہے ہیں اور حلقہ بندیوں کے حتمی نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا جائے گا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کرانے کا اعلان غیر یقینی سیاسی صورتحال کے کافی حد تک خاتمے کا سبب بنا ہے۔