گیبن میں بی ایل ایف کمانڈرسمیت 13دہشتگرد مارے گئے
کمانڈر ظریف گرفتار ، مارے جانیوالے اہم کمانڈر حیات اور اسکے ساتھیوں کی کمین گاہوں سے مائنز، راکٹ لانچر اور گولہ بارود برآمد آپریشن میں ہیلی کاپٹرز اور اے پی سیز کی مدد لی گئی، معصوم لوگوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب اور بدلہ لیا جائے گا ،آئی جی فرنٹیئرکور
تربت ، کوئٹہ(دنیانیوز،خبر ایجنسیاں )سانحہ تربت کے بعد نواحی گاؤں گیبن میں ایف سی کے سرچ آپریشن کے دوران مقابلے میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر سمیت 13 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ترجمان ایف سی کے مطابق 20 مزدوروں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کیخلاف تربت کے نواحی گاؤں میں سرچ آپریشن شروع کیاگیا توانہوں نے فورسزپر اندھا دھند فائرنگ کر دی، تاہم بھرپورجوابی کارروائی میں کالعدم بی ایل ایف کا کمانڈر حیات اوراسکے 13 ساتھی مارے گئے ، جبکہ متعدددہشت گردزخمی بھی ہوئے ۔دہشت گردوں کی کمین گاہوں سے مائنز، آئی ای ڈیز ، گولہ بارود ، خود کار ہتھیار اور راکٹ لانچر سمیت دیگربھاری اسلحہ برآمدکرلیا گیا ۔ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر حیات کوگرفتاربھی کرلیاگیا۔ ایف سی ترجمان کاکہناتھاکہ مارے جانے والے دہشت گرد جمعہ اورہفتہ کی درمیانی شب تربت میں20مزدوروں کے قتل میں ملوث تھے ۔ دریں اثناء انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل شیر افگن نے کامیاب آپریشن کرنے پر جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب اور بدلہ لیا جائیگا،جبکہ دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی تک کارروائی جاری رہے گی۔