نامور محقق , محدث اور مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی انتقال کر گئے

نامور محقق , محدث اور مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی انتقال کر گئے

نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ ادا کی جائیگی، رابطہ کمیٹی، مفتی نعیم، قاری عثمان، معراج الہدیٰ صدیقی و دیگرکی تعزیت

عمر 80برس تھی، دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں مسلسل 32برس بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دیں ، حکومت نے تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمِ اسلام کے نامور محقق، محدث و مفسر قرآن، جامعہ نعیمیہ کراچی کے شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں جمعرات کو مقامی اسپتال میں انتقال کر گئے ۔ ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ جامع مسجد اقصیٰ کے بالمقابل ٹی گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا کی مرکزی عید گاہ میں ادا کی جائے گی، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن امامت کریں گے ۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی ترویج واشاعت کے لیے وقف کردی تھی، علامہ غلام رسول سعیدی کی تصانیف میں تفسیر تبیان القرآن (13مجلدات)، تفسیر تبیان الفرقان (6 مجلدات)، نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری (17مجلدات) ، شرح صحیح مسلم (8 مجلدات )، مقالاتِ سعیدی ، توضیح البیان ، تاریخِ نجدو حجاز، تذکرۃ المحدثین، مقام ولایت ونبوت اور ذکر بالجہر جیسی معرکۃ الآرا تصانیف شامل ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی 1937ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ مرحوم اپنے عہد کے امام المفسرین وامام المحدثین تھے ۔ ان کی تدریسی زندگی 50 سال پر محیط ہے ۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا تھا۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مدرس علامہ عطا محمد بندیالوی کے شاگرد تھے ۔ علامہ غلام رسول سعیدی کے تلامذہ دنیا بھر میں موجود ہیں اور بڑے بڑے نامور علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں مسلسل 32 سال شیخ الحدیث کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ 6 سال کی عمر میں آپ نے والدہ ماجدہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا۔ 10برس کی عمر میں آپ نے ‘‘پنجابی اسلامیہ ہائی اسکول’’ قطب روڈ، دہلی سے پرائمری کا امتحان پاس کیا ۔ تقسیم ہند کے بعد آپ اپنے والدین کے ہمراہ بحری جہاز کے ذریعے بھارت سے ہجرت کر کے کراچی آ گئے ، کراچی میں آپ نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ معاشی مسائل کی وجہ سے آپ مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے ۔ دہلی میں آپ کے والد کا اپنا پریس تھا ، یہ پریس اس وجہ سے بہت مشہور تھا کہ ٹرام کے ٹکٹ اس میں چھپتے تھے اور ٹکٹ پر مرچنٹ پریس لکھا ہوا ہوتا تھا۔ دہلی میں آپ بہت ناز و نعم میں پلے بڑھے ، ایک خادم آپ کو اسکول لانے اور لے جانے پر مامور تھا، غالباً 1949ء میں آپ کے والد کی وفات ہو گئی۔ اس وقت آپ کی عمر 12 سال تھی۔ علامہ غلام رسول سعیدی کے انتقال پر جامعہ بنوریہ العالمیہ کے سربراہ مفتی محمد نعیم، جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماء قاری محمد عثمان، صوت الاسلام کے سربراہ مفتی ابو ہریرہ محی الدین، جماعت اسلامی سندھ کے امیر معراج الہدیٰ صدیقی، حافظ نعیم الرحمن،پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم ،لطیف مغل ،ندیم بھٹو، جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ اویس نورانی سمیت دیگر سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے اظہار افسوس کر تے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔ دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے علامہ غلام رسول سعیدی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہارکیا ہے ۔ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے سوگوار لواحقین وعقیدت مندوں سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ غلام رسول سعیدی کو اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگواران کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں