جاگیردارانہ نظام نے کسانوں کے حقوق غصب کر لئے، سراج الحق
حکومت نے اعلانات کے باوجود کاشتکاروں سے گندم نہیں خریدی ، زراعت تباہ ہو گئی
لاہور(نمائندہ دنیا) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں کسانوں ،مزدوروں ،پنشنرزاور طلباء کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ ہے ۔ حکمران ذہن نشیں کرلیں کہ جب کسان اور مزدور لاکھوں کی تعداد میں اپنی جھونپڑیوں سے نکلیں گے تو ان کا راستہ روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جاگیردارانہ نظام نے کسانوں اور کاشتکاروں کے حقوق غصب کررکھے ہیں، جس سے زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔ حکومت نے تمام تر اعلانات کے باوجود گندم کے کاشتکاروں سے گندم نہیں خریدی جس کی وجہ سے کسان لٹ گئے ہیں ۔ گزشتہ دو برس سے نااہل اور کرپٹ اداروں کی وجہ سے کاشتکار وں کی لاگت کاشت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور اب رہی سہی کسر گندم کی فروخت میں فی من 200 روپے سے زائد کی کمی نے نکال دی ہے ۔ حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے کسان فصلیں اور پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں کسان دو دن تک حکومت کے خلاف دھرنا دیئے بیٹھے رہے جہاں ایک کاشتکار دل کے دورے سے جاں بحق بھی ہو گیا، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ بوڑھے صنعتی مزدور آئے روز پنشن میں اضافے کیلئے سڑکوں پر نکلتے ہیں ، مگر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کی پنشن میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ۔ سراج الحق نے اولڈ ایج پنشنرز کی پنشن 10 ہزار کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آئندہ بجٹ میں پنشنرز کو اضافہ کے ساتھ پنشنز دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پھٹی کی قیمت چار ہزار، دھان باسمتی ڈھائی ہزار اور مکئی اٹھارہ سو روپے فی من مقرر کی جائے ۔