امریکہ سے فاصلے میں ہی ہماری بھلائی ہے :بیگم عابدہ حسین

 امریکہ سے فاصلے میں ہی ہماری بھلائی ہے :بیگم عابدہ حسین

نواز شریف مودی ملاقات بہت سے سوالات پیدا کرتی ہے وزیراعظم کی واپسی کے بعد پاناما لیکس پھر بڑا ایشو بنے گا: انٹرویو

لاہور(سلمان غنی سے )امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر بیگم سیدہ عابدہ حسین نے کہا ہے کہ امریکہ سے فاصلے میں ہی ہماری بھلائی ہے ، کیونکہ وہ علاقائی سیاست میں اپنا وزن ہندوستان کے ساتھ ڈال چکا ہے ۔ ہمیں چین اور روس کیساتھ ملکر چلنا چاہیے ، جس سے ہمارے لئے وسطی ایشیائی ممالک کی منڈیوں کے راستے کھلیں گے ۔ وزیراعظم نوازشریف کی نریندرمودی سے ملاقات بہت سے سوالات پیدا کرتی ہے ، کوئی جواب نہیں دیتا ۔ مودی سے خبر دار رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا نوازشریف کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ استعفیٰ دیں اور اپنے جانشین کا اعلان کریں، بیگم کلثوم نواز اسحاق ڈار کی معاونت کیساتھ بہترین جانشین ثابت ہوسکتی ہیں۔ پاناما لیکس کے ایشو کو دبایا نہیں جا سکتا ،نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد یہ پھر بڑا ایشو بنے گا۔ ڈرون حملوں کا سلسلہ تب تک ختم نہیں ہوگا، جب تک ہماری سرزمین سے اسامہ اور ملامنصور پکڑے جاتے رہیں گے ، وہ دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کر رہی تھیں، ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اکنامک کوریڈور کی اصل ضامن فوج ہے ۔ نوازشریف حکومت اس سے فائدہ اٹھانے کے چکرمیں ہے ۔انہوں نے کہا نوازشریف اور فوج کے درمیان ایشوز پر ہم آہنگی نہیں لیکن پھر بھی فوج کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں جان نہیں لیکن عوام کے اندر حکومت اور حکمرانوں کے خلاف شدید ردعمل ہے اور وہ اس ردعمل کے اظہار کے لئے وقت کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کاشتکار کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اس کا بھرکس نکال دیا گیا، اس کو اپنی جنس کی مناسب قیمت نہیں ملی وہ گندم کی فروخت کیلئے دربدر ہوتا رہا۔ بجٹ میں زرعی پیکیج کے اعلان کے باوجود میں نہیں سمجھتی کہ کاشتکاروں کے ہاتھ خیر آئے ، بیگم عابدہ حسین نے ایک سوال پر کہا کہ کرپشن اور لوٹ مارنے ہمارے سیاسی سسٹم کو بدنام کر کے رکھ دیا۔ اہل سیاست نے اس حوالے سے سنجیدگی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہااگر احتساب سیاستدانوں کے ذریعے ممکن نہ ہوا تو پھر کب ہو گا؟ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا ہندو اور ہندوستان سے کبھی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ، اور جو ایسا کرتے ہیں، ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے ۔میں ہندوستان سے جنگ کے خلاف ہوں، لیکن ہمیں اپنے مفادات اور ترجیحات دیکھنی چاہئیں۔ انہوں نے کہاجمہوریت جوابدہی اور گورننس کا نام ہے مگر کوئی حکمران خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہاکہ راہداری منصوبہ ہمارے لئے نئی راہیں کھول سکتا ہے مگر اس کے لئے سیاسی استحکام درکار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب پارلیمنٹ عوام کے اعتماد پر پوری نہیں اترتی تو تب لوگ ادھر ادھر دیکھتے ہیں۔ ملک میں جمہوریت اتنی مضبوط ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہونے کے باوجود نہ قیادت کے انتخابات ہوئے نہ انہیں اختیارات ملے ، نہ ادارے وجود میں آئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں