مودی کے خلاف مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا,افغانوں کو پاکستان کا دشمن نہ بنایا جائے دفاع پاکستان کونسل

مودی کے خلاف مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا,افغانوں کو پاکستان کا دشمن نہ بنایا جائے دفاع پاکستان کونسل

امریکا، بھارت معاہدے پاکستان کیخلاف سازش ، ملکی دفاع کا سب سے بڑا نقطہ کشمیر ہے ، تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر خاموشی افسوسناک، 6 ستمبر فتح و تجدید عہد ہے ، قوم میں65والے جذبے بیدار کرنا ہونگے ، سمیع الحق، حافظ سعید، سراج الحق و دیگر

اسلام آباد(نمائندہ دنیا) دفاع پاکستان کونسل میں شامل مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ 6 ستمبر یوم عزم،استقلال،فتح اور تجدید عہد ہے ۔ قوم میں آج بھی65والے جذبے بیدار کرنے ہوں گے ۔ امریکا و انڈیا کے معاہدے عالم اسلام کے پشت بان پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے ۔ پاکستان کے دفاع کا سب سے بڑا نقطہ کشمیر ہے ۔ کشمیر کی حالیہ تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے پالیسی تبدیل کی جائے ۔ افغانیوں نے پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی ہے ، اب افغانوں کو پاکستان کا دشمن نہ بنایا جائے ۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسیوں پر حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ مودی نے بنگلہ دیش میں پاکستان توڑنے کا اعتراف کیا تھا ، اس پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا۔ کشمیر کے حوالے سے موثر پالیسی بنائی جائے اور حکومت صرف بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے ۔ ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید،سینیٹر سراج الحق، سردار عتیق احمد،غلام محمد صفی،مولانا شاہ اویس احمد نورانی،مولانا فضل الرحمان خلیل،حافظ عبدالرحمان مکی، مولانا یوسف شاہ،مفتی سعید طیب بھٹوی،علی عمران شاہین نے دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں دفاع پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل نے بیرونی دشمنوں سے دفاع اور جغرافیائی،نظریاتی سرحدوں کا بھی دفاع کرنا ہے ۔ کشمیر میں ظلم جاری ہے ۔ کشمیر کے حوالے سے جرأت مندانہ پالیسی بنانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پالیسیوں میں چاروں طرف دشمن بنا رہے ہیں۔ جن لوگوں نے پاکستان کی جنگ لڑی، کئی ہزار اپاہج ہوئے ، آج ان کو ملک سے نکالا جا رہا ہے ،تیس سالہ محبت نفرت میں بدل جائے گی ۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں ۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ چھ ستمبر 1965میں جو جذبہ ،اتحاد تھا اور اسکا جو نتیجہ سامنے آیا آج اس ماحول کو یاد کرنے کے ساتھ عملاً قائم بھی کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ دفاع کا درپیش ہے ۔ امریکا جو کام افغانستان میں بیٹھ کر نہیں کر سکا اور اسے ذلت آمیز شکست ہوئی اب وہ انڈیا میں بیٹھ کر کرنا چاہتا ہے ۔ کشمیر کی آزادی انڈیا کی بربادی کی بنیاد بنے گی ۔ یہ دفاع پاکستان کا تقاضا ہے ، اگر افغانیوں میں دہشت گرد ہیں تو انہیں پکڑو ، سزا دو ، پاکستانی قوم ساتھ ہے ، لیکن امریکا وا نڈیا کا ایجنڈا پورا نہ کیا جائے ۔ ہم نے دفاع کی جنگ لڑنی ہے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ چھ ستمبر یوم عزم، یوم استقلال، یوم فتح ہے ۔ آج کا پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔ اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جغرافیہ کا نام نہیں ، ایک نظریے کا نام ہے ۔ اس مقدس سر زمین کی خاطر زندگی قربان کرنا بہت بڑی سعادت ہے ۔ پاکستان ایک ایسی عمارت ہے جس کی تعمیر میں لاکھوں لوگوں کا خون شامل ہے ۔ چند دن قبل مودی نے بلوچستان اور گلگت بلتستان کے حوالے سے جن عزائم کا اظہار کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ دشمن نے آج بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ چاروں طرف سے انڈیا نے پاکستان کا محاصرہ کیا ہے ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر چیلنج کا مقابلہ کریں ۔ عتیق احمد خان نے کہا کہ 6 ستمبر کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، آج ہم اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ دفاع وطن کے لئے جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ کشمیر میں دنیا کا طویل ترین کرفیو لگا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کرائی جاتی ہے ، حریت قائدین نظر بند و گرفتار ہیں ۔ جمعیت علماء پاکستا ن کے چیئرمین مولانا شاہ اویس احمد نورانی نے کہا کہ پاکستان کے دفاع ، سلامتی کے لئے قوم کو یکسو ہونا چاہئے ۔ ستر سال ہو گئے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ۔ دو قومی نظریے کی دھجیاں جس طرح ملک میں اڑائی جا رہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں خاموش ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ چھ ستمبر کو پاکستان کے غیور عوام اور فوج نے اپنے سے بڑی طاقت کو شکست فاش سے دو چار کیا اور دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک طاقت ہے ۔ آج یوم عہد بھی ہے ،پھر وہی دشمن جس نے 65 میں پاکستان کے خلاف جارحیت کی آج بھی کر رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں