پاکستان پام آئل درآمد کرنیوالا چوتھا بڑا ملک بن گیا
گزشتہ مالی سال خوردنی تیل کی درآمد پر3.40ارب ڈالرخرچ کئے گئے سورج مکھی و دیگر آئل سیڈز کی کاشت کو فروغ دیا جائے ، اوورسیز انوسٹرز
کراچی(بزنس رپورٹر )پاکستان میں خام تیل کے بعد اب خوردنی تیل کا درآمدی بل بھی خطرناک حد تک بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا جو نہ صرف زرِمبادلہ ذخائر پر دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ زرعی پالیسیوں کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر رہا ہے ۔ اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان نے خوردنی تیل کی درآمد پر 3 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے ،یہ رقم حیران کن طور پر ملک کے اعلیٰ تعلیم کے سالانہ بجٹ سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا پام آئل درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے جہاں بھارت، چین اور یورپی یونین کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے ۔
واضح رہے کہ ایک زرعی معیشت ہونے کے باوجود، جہاں تقریباً 37 فیصد افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے ، ملک اپنی مجموعی خوردنی تیل کی ضروریات کا صرف 12 سے 15 فیصد ہی مقامی سطح پر پیدا کر پا رہا ہے ۔ باقی تمام ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں جس کے باعث درآمدی بل میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2020 کے مقابلے میں خوردنی تیل کا درآمدی بل تقریباً دوگنا ہو چکا ہے ، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر آئل سیڈز کی پیداوار بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا سکے ۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اپنی درآمدی انحصار کو کم کرنا چاہتا ہے تو زرعی پالیسی میں فوری اور بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ او آئی سی سی آئی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ملک میں گنے کی اضافی کاشت کو کم کر کے اس کی جگہ کینولا، سورج مکھی اور دیگر آئل سیڈز کی کاشت کو فروغ دیا جائے ۔ اس اقدام سے نہ صرف خوردنی تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ درآمدی بل میں نمایاں کمی بھی لائی جا سکتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں یہ درآمدی بوجھ مزید بڑھ کر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔