اُڑی سیکٹر حملے سے متعلق بھارتی حکومت نے میڈیا کو متضاد معلومات دیں
حکومت نے بتایا 12 بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، حملہ 10 ڈوگرا بٹالین ہیڈ کوارٹرز پر کیا گیا
بارہ مولہ (دنیا نیوز) مقبوضہ کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں ملٹری ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے بھارتی ڈرامے کا پردہ چاک ہو گیا۔ اصل واقعات اور میڈیا کو دی جانے والی معلومات میں تضاد کھل کر سامنے آ گیا۔ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ 12 بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر کیا گیا۔ درحقیقت حملہ 10 ڈوگرا بٹالین ہیڈ کوارٹرز پر کیا گیا، جہاں سکھ فوجیوں کی اکثریت ہے ۔ یہ پٹرول کا بڑا ڈپو بھی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکن ہے کہ آگ لگنے سے خیمے جل گئے ہوں اور اب خفت سے بچنے کے لیے حادثے کو حملہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں فوج کے ہاتھوں کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اس قدر دباؤ میں ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت بھی گول کر گئے اور وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھیج دیا ۔ بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے بھی امریکا اور روس کے دورے سے اجتناب برتا ہے ۔ اب بھارتی میڈیا میں یہ باتیں آ رہی ہیں کہ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق ہو ۔ اس نوعیت کے حملے کس کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں؟ اُڑی ہندو اکثریت کے علاقے جموں میں واقع ہے ۔ سوال یہ ہے کہ حملہ آوروں نے مقبوضہ کشمیر میں کسی آسان ہدف کے بجائے سخت سیکیورٹی والا علاقہ کیوں منتخب کیا ۔ در اندازی بھی ممکن نہیں کیونکہ لائن آف کنٹرول پر لیزر باڑ لگادی گئی ہے ۔ بھارتی فوجی رات دن سراغ رساں کتوں کے ساتھ گشت کرتے رہتے ہیں۔ اتنے حساس علاقے میں کسی کا لائن آف کنٹرول عبور کرکے بٹالین ہیڈ کوارٹرز تک جانا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اسلحے کی مدد سے حملہ کرنا بظاہر ناممکن ہے ۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو کمزور کرنے کے لیے یہ ڈراما تیار کیا گیا ۔