بچت کے الگ الگ انداز ...
ہمارے ملک میں لوگ بچت اور سر مایہ کاری کیلئے مختلف طریقے اپنا تے ہیں ۔
(قیصر بنگالی ) بینک اکاؤنٹس ، پرائز بانڈز اور گلی محلو ں میں کمیٹیاں ۔ بینک میں اپنی بچتیں جمع کرانیوالے لوگوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوتاہے ، پیسہ ڈوبنے کا خطرہ صرف اسی صورت ہوتاہے جب بینک بند ہو جائے تاہم اس میں بھی حکومت کچھ تحفظ فراہم کرتی ہے ۔یہ الگ بات کہ بینک بند ہونے کا امکان صرف ایک فیصد ہوتاہے ۔بینک میں پیسہ جمع کرانے سے اس پر منافع ملتاہے تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگر منافع 8فیصد اور افراط زر کی شرح 10فیصد ہو تو اس کا مطلب یہ ہو تاہے کہ آپ کے پیسے کم ہورہے ہیں ،عموماً لوگوں کو افراط زر کی وجہ سے ان کے پیسوں کی قدر میں کمی کا ادراک نہیں ہوتا۔دوسری طرف جو لوگ کمیٹیاں ڈالتے ہیں ،انہیں کوئی تحفظ نہیں ہوتا ۔عموماً خاندان ،محلے اور دفتر کے لوگ مل کر کمیٹی ڈالتے ہیں ،ا ن میں سے ایک بھی شخص بے ایمانی کرلے تو دوسروں کے پاس اس سے بچنے کیلئے کوئی محفوظ راستہ نہیں ہوتا ۔کمیٹیوں میں منافع کی شرح بھی صفر ہوتی ہے ۔جتنے پیسے دیتے ہیں ،وہی واپس ملتے ہیں ۔جیسے اگر کسی نے 10 ہزار مہینہ کی کمیٹی ڈالی تو اسے 6ماہ کے بعد 60 ہزار ہی ملیں گے لیکن افراط زر بڑھنے کی وجہ سے ان پیسوں کی قدر کم ہو جائے گی اور اصل میں اسے کم پیسے ملیں گے تاہم جن لوگوں کو پیسے پہلے مل جاتے ہیں اور بعد میں انہیں ادائیگی کرنی ہوتی ہے ،انہیں اس کا کچھ فائدہ ہو جاتاہے ۔کمیٹی میں ایک یہ بھی آسانی ہوتی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہوتاہے کہ ان کی باری آنے پر ان کو پیسے مل جائیں گے ۔اس میں کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ،اگر لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی رقم محفوظ رہے اور اس پر کچھ آمدن بھی ہو تو انہیں رقم بینکوں میں ہی جمع کرانی چاہیے ۔ بینک میں اگر افراط زر سے کم بھی شرح ہے تو پھر بھی یہ مثبت ہے تاہم سرکاری ذرائع ترجیح ہونی چاہیے ۔پرائز بانڈ بھی مالی نظام کا حصہ ہے ،جس میں پیسہ لگانے والا اپنی قسمت پر انحصار کرتاہے ،اگر اس کا پرائز بانڈ نکل آئے تو پانچ سو یا ایک ہزار فیصد بھی منافع ہوسکتاہے ،دوسری صورت میں رقم اتنی ہی رہتی ہے ۔اس میں بھی آمدن صفر ہوتی ہے کیونکہ اگر10 لاکھ لوگ پرائز بانڈ خریدتے ہیں تو بانڈ صرف 50 افراد کے ہی نکلتے ہیں ۔بینک میں رقم جمع کرانے کیلئے پہلے اکائونٹ کھولنا پڑتاہے ،تھوڑی رقم کیساتھ بینک والے جو نہیں کھولتے ،ویسے بھی بینک کی طرف سے کم سے کم طے شدہ رقم اکائونٹ میں رکھنی ہوتی ہے ،اگر رقم اس سے کم ہو جائے تو جرمانہ عائد کر دیاجاتاہے ۔ دراصل سال2000 کے بعد بینکوں کا راج ہے ،انہوں نے من مانی کی ہے ،انہوں نے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جرمانے لگا دئیے ہیں ۔چھوٹے اکائونٹ ہولڈرز کیلئے اکائونٹ چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔جب کسی کا چیک رقم نہ ہونے کی وجہ سے مستردہو جائے تویہ فوراً اس کے ایک ہزار روپے کاٹ لیتے ہیں ۔جس کے بینک میں 6ہزار روپے پڑے ہو ں اور اس کا بینک ایک ہزار کاٹ لے تو پھر ا س کے پاس باقی رقم نکلوانے کے علاوہ اور کیا راستہ بچتاہے ۔بینکوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے جرمانوں اور سروس چارجز کی مدمیں لوگوں پر بہت سارا بوجھ ڈال رکھا ہے ،حکومت کو چاہیے کہ انہیں ختم کرائے ، جو رکاوٹیں ہیں ان کو ہٹا کر اسے مزید آسان بنایا جائے ۔تب ہی لوگوں کو بینکوں کی طرف لایا جا سکتاہے ،خصوصاً گزشتہ 5سال سے جو50ہزار یا اس سے اوپرکا چیک کیش کرانے پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ،یہ بھی ختم ہو نا چاہیے ۔پاکستان میں پالیسی کا جو ڈھانچہ اس وقت قائم ہے وہ لوگوں کو بینکوں سے دور کر رہا ہے ۔بچتوں کی سرمایہ کاری کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اشیا خرید لی جائیں جن کے بارے میں معلوم ہو کہ ا ن کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں یا بڑھیں گی،جیسے لوگ ڈالر خریدتے ہیں ،ڈالر 105روپے کاتھا جو اب 107روپے کا ہو گیا لیکن ایسی سرمایہ کاری ملک کیلئے نقصان دہ ہے اور عوام کیلئے بھی ۔مثال کے طور پر اگر ہم اپنی بچتیں ڈالر میں رکھنا شروع کر دیں تو پھر ڈالر بہت مہنگا ہو جائے گا جس سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی ۔پٹرول جو درآمد کیا جاتا ہے ، اس کی بھی قیمت بڑھ جائے گی ۔اسی طرح اگر ہم اپنی بچتیں سونا خریدنے میں لگادیں توسونا بھی چونکہ درآمد کیا جاتاہے تو اس سے بھی ڈالر کی قیمت بڑھے گی ،جس سے افراط زر میں اضافہ ہو گا اور جس کی قیمت ہر خاندان کو ادا کرنا پڑے گی ۔لہذا یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے بچت اور سر مایہ کاری کیلئے ایسا محفوظ قانونی راستہ اختیار کر نا چاہیے جو انفرادی اور قو می سطح پر بھی فا ئد ہ مند ہو ۔