پیغام پاکستان،1800علما کا فتویٰ

پیغام پاکستان،1800علما کا فتویٰ

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں سے تمام مسالک کے علما کے دستخطوں سے تیار کردہ تاریخی فتویٰ ''پیغام پاکستان'' کی تقریب رونمائی آج ایوان صدر میں ہو گی۔

اسلام آباد(سٹی رپورٹر) اس تاریخی فتویٰ پر 1800 سے زائد علما کے دستخط ہیں۔ اسے 73 کے آئین کے بعد دوسرا بڑا کارنامہ گردانا جا رہا ہے جس پر تمام مسالک نے اتفاق کیا۔ اس فتویٰ میں ریاست کے خلاف جہاد جیسے مسائل پر علما نے فیصلہ دیا ہے ۔ صدر ممنون حسین تقریب کی صدارت کریں گے ۔ متفقہ فتویٰ میں کہاگیا ہے کہ اسلام اور بر داشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں اور یہ فکری سو چ جس جگہ بھی موجود ہو ، ہماری دشمن ہے ، اس کے خلاف فکری و انتظامی جد و جہد دینی تقاضا ہے ۔ فتویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت ، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الا رض ہے ۔ مزید براں پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ، ریاست کے خلاف مسلح محاذآرائی، فساد اور دہشتگردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع ، حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے ۔ پاکستان میں خودکش حملے کرنے اور کرانے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں، ریاست پاکستان شرعی طور پر ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا جواز رکھتی ہے ۔فتویٰ کے مطابق جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ، کسی بھی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات کو ریاست کی حاکمیت میں دخل اندازی سمجھا جائے گا اور ان کے یہ اقدامات ریاست کے خلاف بغاوت تصور ہوں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے ۔ علما ئے کرام کے فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام ہے ، دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں ۔ پر امن بقائے باہمی اور باہمی برداشت کا فروغ پر امن اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے ضروری ہے ، اس لئے اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت، حریت ، مساوات، برداشت، رواداری، باہمی احترام اور عدل و انصاف پر مبنی پا کستانی معاشرے کی تشکیل ضروری ہے ۔مزید براں اسلام احترام انسانیت ، اکرام مسلم ، بزرگوں ، بچوں ، خواجہ سرائوں ، معذوروں اور محروم طبقات کے تحفظ کے لئے جو تعلیمات دیتا ہے ان کی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ترویج ضروری ہے ، پاکستان کے غیر مسلم شہری اپنی عبادت گاہوں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذاہب پر عمل کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتے ہیں ۔ فتویٰ پردستخط کرنے والوں میں رفیع عثمانی، تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن ، مولانا حنیف جا لندھری، علامہ سید ریاض حسین نجفی، مو لانا ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی، مو لانا زاہد محمود قاسمی، مفتی عبد الرزاق نقشبندی، مفتی نذیر حسین شاہ، مفتی احمد علی سعیدی، مفتی وسیم المدنی، ڈاکٹر ضیا الحق، پیر روح الحسنین معین، ڈاکٹر راغب حسین، ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن اور دیگر جید علما و مشائخ شامل ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں