آئین کی تشریح کااختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس :شجاعت
چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہم اپنا کام کر رہے ہیں،حکومت اپنا کرے حکومت سپریم کورٹ کے وقار اورتقدس کو کم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے ، بیان
لاہور(سپیشل رپورٹر،اپنے سیاسی رپورٹر سے ) مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور حکومت اپنا کام کرے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ اگر حکومت انسانی حقوق یا آئین یا ان دونوں کیخلاف کوئی کام کرتی ہے تو سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کام کو کالعدم قرار دے دے ۔ آئین کی تشریح کا اختیار صرف سپریم کورٹ ہی کے پاس ہے حکومتوں کے پاس نہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا امریکہ جیسے ملک کا صدر جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور آدمی سمجھتا ہے کے احکامات کو امریکی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کیخلاف سمجھتے ہوئے کالعدم قرار دیا ۔حکومت سپریم کورٹ کے وقار اورتقدس کو کم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے حالانکہ آئین میں ہی درج ہے کہ سپریم کورٹ ہی آئین کی تشریح کرے گی، جہاں تک پارلیمنٹ کا تعلق ہے پارلیمنٹ آئین کو تبدیل تو کر سکتی ہے لیکن تشریح نہیں کیونکہ آئین کی تشریح کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے حکومتوں کے پاس نہیں۔ انہوں نے کہا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ موجودہ حکمران جماعت حکومت میں بھی ہے اور اپوزیشن میں بھی، اس نے سپریم کورٹ کیخلاف منظم مہم چلا رکھی ہے ۔ انہو ں نے کہامیرا چیف جسٹس کو یہ پیغام ہے کہ آپ کسی کی تنقید کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام کو جاری رکھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ بلند مرتبہ و مقام عطا کیا ہے جس پر ملک کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں، مجھے امید ہے کہ انشا اللہ آپ ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسا کوئی ایک کام ضرور انجام دیکر جائیں گے جس کی وجہ سے آپ کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں چمکتا رہے گا۔