117 سرکاری ادارے ، 71 ہزار اسامیاں ختم ، وفاقی کابینہ کو بریفنگ
تمام وزار تیں بقایا جا ت کی ادائیگی کر کے رپورٹ پیش کریں، وزیراعظم کی ہدایت ، چینی درآمد سے متعلق فیصلے کی توثیق گندم کی درآمد کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،سیما کامل ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک ،حارث محمود سی ای او یو ایس ایف مقرر
اسلام آباد (خصوصی وقائع نگار ،سیا سی رپورٹر ،نیوز رپورٹر) وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی صدارت ہوا جس میں بتایا گیا کہ سرکاری اداروں کی تعداد 441 سے کم کر کے 324کر دی گئی ہے جبکہ 71ہزار اسامیاں ختم کردی گئی ہیں ، فیڈرل گورنمنٹ کی تنظیم نو کے بعد ایک سال سے خالی اسامیاں بھی ختم کردی گئی ہیں، اجلاس میں مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے سرکاری اداروں میں اصلاحاتی عمل میں پیش رفت کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کے بارے میں کابینہ کو بتایا کہ اس عرصے میں موجودہ حکومت کے وژن کی روشنی میں ایف بی آر میں قانونی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، محصولات بڑھانے اور نظام کو آسان بنانے کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے پروگرام منظور ہو چکا ہے ، ایف بی آر کی آٹومیشن کا عمل جاری ہے ، چیف انفارمیشن آفیسر کی آسامی پر تعیناتی کے لئے موزوں امیدوار کا انتخاب کیا جا چکا ہے ،کابینہ کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا گیا ہے ، برآمدات کے کاروباری ریفنڈز کے حوالے سے نظام آسان بنایا جا چکا ہے ،ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیرف کا نظام ایف بی آر سے نکال کر ٹیرف کمیشن کے حوالے کیا گیا ہے جس سے کاروباری طبقے کے لئے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں ،خستہ حال یونٹس کی بحالی کے لئے اقدمات، ایس ای سی پی کی آٹو میشن، آڈیٹر جنرل کے حوالے سے اصلاحاتی عمل کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ، ریلوے ، متروکہ وقف املاک اور سول ایوی ایشن اتھارٹی میں جاری اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، فیڈرل گورنمنٹ کی تنظیم نو کے حوالے سے بتایا گیا کہ تنظیم نو کے عمل کے بعد سرکاری اداروں کی تعداد 441سے کم ہو کر 324ہو چکی ہے ، اس طرح 117ادارے ختم ہوگئے ہیں ، کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف اداروں میں1سال سے زائد خالی رہنے والی اسامیوں کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ، جس کے نتیجے میں71 ہزار آسامیاں ختم ہوئی ہیں ، سول سروس ریفارمز کے حوالے سے پیش رفت پر بھی کابینہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سیما کامل کو ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک مقرر کردیا گیا، اجلاس میں سیما کامل کو ڈپٹی گورنر جنرل سٹیٹ بینک اور حارث محمود کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونی کیشن کے ماتحت محکمے یونیورسل سروس فنڈ (یوایس ایف )کے چیف ایگز یکٹو آفیسرتعینات کرنے کی منظوری دی گئی،کابینہ نے چیئرمین پاکستان کونسل آف ریسرچ برائے واٹر ریسورسز اسلام آبادکی تقرری کی بھی منظوری دی،کابینہ نے پائیدار ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کی گائیڈ لائنز میں گیس کی ڈویلپمنٹ سکیمز کے حوالے سے منصوبوں کی تکمیلی لاگت میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے ،کابینہ نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دی ،کابینہ نے پی آئی اے کے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ، ایرئیل ورک لائسنس کلاس ٹو (ڈومیسٹک /انٹرنیشنل) اور چارٹر لائسنس کلاس ٹو کی 2 سال کیلئے تجدید کی منظوری دی ، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دیدی ۔