کیا ہم غلام ہیں جو یورپی یونین کہےوہ کریں، قوم کا سر کبھی نہیں جھکنے دونگا،عدم اعتماد ناکامی پر جو کرونگا تیار رہنا، وزیراعظم کی اپوزیشن کو وارننگ
میلسی( نمائندہ دنیا،نیوز ایجنسیاں ، دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کیلئے مزید 500ارب روپے مختص کرنے اور اسے الگ صوبہ بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔۔
تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پرچوروں کیساتھ جو کر وں گا اس کیلئے وہ تیار ر ہیں ،ڈاکوئوں کے گلدستے کا خون کے آخری قظرے تک مقابلہ کرونگا،لندن میں بیٹھے ہوئے بھگوڑے سے اگر پیسہ واپس آگیا تو پٹر ول وڈیزل کی قیمت آدھی کردوں گا،شہباز شریف کو کوئی بھی بوٹ نظر آئے تو وہ اس کی پالش شروع کردیتے ہیں،فضل الرحمان کو مولانا نہیں کہوں گا کیوں کہ جو ڈیزل کے پرمٹ کو بیچ کر پیسے بنائے وہ معتبر نہیں،ان کو فضلو کہوں گا ، 25سال قبل ان کا مقابلہ کرنے آیا تھا جب تک جسم میں خون ہے مقابلہ کروں گا، میری پوری تیاری ہے کہ یہ جو بھی کریں ان کا مقابلہ کروں گا،یورپی یونین نے خط لکھا کہ روس کیخلاف بیان دیں، یورپی یونین کے سفیروں سے پوچھتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ کیا آپ نے جو خط ہمیں لکھا ہے کیا آپ نے کشمیر ایشو پر بھارت کو بھی لکھا؟ کیا ہم غلام ہیں کہ جو آپ کہیں ہم وہ کریں، ہم ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہیں۔
اگر میرے دور حکومت میں ڈرون نے حملے کی کوشش کی تو فضائیہ کو حکم دوں گا کہ ڈرون کو مار گرادے ۔اتوار کو میلسی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لگتا ہے کہ 74سال میں جو کام نہیں ہوئے وہ ایک سال میں کرانا چاہتے ہیں، اس لئے ہم جنوبی پنجاب کیلئے 500ارب روپے مزید خرچ کریں گے ، جنوبی پنجاب کے صوبہ کیلئے بل قومی اسمبلی میں پیش کریں گے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے ۔ ان شاء اللہ ہم نے قومی اسمبلی میں بل رکھ دیناہے ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) بہت عرصے سے جنوبی پنجاب صوبے کی بات کررہی ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ اس پر ہماری حمایت کریں گی یا نہیں ،عوام کی تمام خواہشیں اس بجٹ یا آئندہ بجٹ میں پوری ہوں گی، کسانوں کے پاس جتنا پیسہ ہمارے دور میں آیا وہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں آیا۔
مکئی کی پیداوار ہر ایکڑ پر فصل کی قیمت پر 40 سے 50ہزار کا فائدہ ہوا، ہم نے چین سے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد منگوا لی ہے ، یورپا کھاد پر عوام کو 132 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں کیونکہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان ترقی کرے گا، جب ہمیں حکومت ملی تو چوروں کا ٹولہ ملک کا دیوالیہ نکال چکا تھا، پیپلز پارٹی کے دور میں ہمارے دور سے زیادہ مہنگائی تھی،امریکا میں 40 اور برطانیہ میں 30 سال کے بعد اتنی مہنگائی آئی ہے ، میں آج تک کسی کے سامنے نہیں جھکا اور اپنی قوم کو بھی کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا، کورونا کے دوران پاکستان کو معاشی بحران سے نکالا ہم نے کورونا کے بعد عالمی مہنگائی کے باوجود کوشش کی کہ عوام پر بوجھ کم ڈالا جائے ، ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا جو عوام پر خرچ کریں گے ، دہشت گردی کی جنگ میں ماضی کے حکمرانوں نے نیٹو کا ساتھ دیا۔
ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزارجانوں کی قربانی دی اور لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ،نیٹو کے ایک فیصد لوگ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہیں مرے ، ہماری قربانیوں کے باوجود بڑی طاقتوں نے ہمارا شکریہ تک ادا نہیں کیا، ہم کسی کے غلام نہیں کہ جو وہ کہیں ہم کر دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2008 سے 2018تک پاکستان پر 400ڈرون حملے ہوئے ، دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جو کسی کا ساتھ دے اسی پر بم برسائے جائیں، جب سے میں وزیراعظم بنا تو کوئی ڈرون اٹیک نہیں ہوا، اگر ڈرون اٹیک ہو تو ایئرفورس کو میری اجازت ہے کہ وہ ڈرون مار گرائیں، جو قومیں کسی کے سامنے جھکتی ہیں وہ کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتیں، ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے ، ہمارے سب سے اچھے تعلقات ہیں، ہم کسی گروپ کا حصہ نہیں ہیں، ہماری سب سے دوستی ہے ،ہم جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے ۔
ہم امن میں سب کے ساتھ ہیں،نواز شریف سپریم کورٹ سے جھوٹ بول کر بیرون ملک بھاگ گئے ، سعودی شہزادے نے نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھول دیا، تین بار کے وزیراعظم کے بیٹے خود کو پاکستانی شہری نہیں سمجھتے ، سپریم کورٹ نے نواز شریف کو سزا دی وہ اداکاری کر کے منتیں کر کے باہر چلا گیا، کیا کبھی گیدڑ بھی لیڈر بن سکتا ہے ؟ لیڈر دوسری بار دم دبا کر بھاگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ نہیں کہا گیا تھا کہ جیل میں نواز شریف کے آنسو پونچھتے پونچھتے ٹشو کے ڈبے ختم ہو گئے ، تین بار ملک کا وزیراعظم شاپنگ، عید اور چھٹیاں باہر، یہ کون لوگ ہیں جو عدم اعتماد کی تحریک چلا رہے ہیں، یہ ہے وہ نمبر ون جو تحریک عدم اعتماد لانا چاہتا ہے تا کہ ملک دوبارہ لوٹے ، شہباز شریف کا پتا کروانا ہو تو کہیں سے مقصود چپڑاسی کو لے آئیں، شہباز شریف اب زمانہ بدل گیا ہے ، اب آپ کو جواب دینا ہو گا۔
انہیں جیل جانے کا ڈر ہے اس لئے وہ تحریک عدم اعتماد کی کوشش کر رہے ہیں، عالمی میڈیا پر زرداری کی چوری کی خبریں چلتی رہیں، آصف زرداری نے اسمبلی میں برطانیہ کے سرے محل کی ملکیت سے انکار کیا، اسی زرداری کو نواز شریف نے کرپشن کرنے پر جیل میں ڈالا، پرویز مشرف نے زرداری کو این آر او دیا وہ بھی ہضم کرگئے ،6کروڑ ڈالر سوئٹزرلینڈ میں تھا پاکستان نے اس پر کیس کیااور وہ کیس جیتنے لگا تو وہ اس کے پیسے بھی ہضم کرگیا۔ نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان یہ چار لوگ عدم اعتماد لا رہے ہیں، اللہ کہتا ہے کہ آپ اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کے خلاف جہاد کرو، نبی کریم ؐ نے بھی فرمایا کہ تم سے پہلے بھی وہ قومیں برباد ہوگئیں جو طاقتور کو سزا نہیں دیتی تھیں صرف کمزوروں کو سزا دیتی تھیں ، ڈاکوؤں اور چوروں کا ٹولہ ملک کو 35 سال سے نقصان پہنچا رہا ہے ۔
ہم برصغیر میں سب سے آگے تھے ، جب یہ چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ ہم پر مسلط ہوا تو ہم سب سے پیچھے رہ گئے ، یہ امیر ترین لوگ ہیں جبکہ قوم غریب اور مقروض بن چکی ہے ، نبی کریم ؐ نے مدینہ کی ریاست اخلاقیات کی بنیاد پر قائم کی، چوروں کا ایک ہی کام ہے کہ باریاں لیتے رہیں اور پیسے کھاتے رہیں، جب ان کا احتساب کا عمل شروع ہوا تو ان سب کی کوشش تھی کہ مجھے گرا دیں ، میڈیا کا کام اچھے برے کی تمیز دینا ہے ، جب کسی پر چوری کا الزام ہو تو وہ تقریر نہیں کر سکتا، وہ میڈیا کے سامنے نہیں جاتا، معاشرے میں کرپشن کرنے پر کوئی اس کے قریب نہیں جاتا، شہباز شریف ڈرا ہوا ہے کہ اس کا کیس آنے لگا تو ان کی کوشش ہے کہ جلدی سے تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2018 کے درمیان پاکستان میں 400ڈرن حملے ہوئے ، دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک ملک کسی کی جنگ لڑ رہا ہو اور وہ ملک اسی پر بمباری کر ے ، ان ڈرون حملوں میں بے قصور لوگ مارے جاتے تھے ۔
نواز شریف اور زرداری اس کے خلاف کیوں نہیں بول رہے تھے ، یہ اس لیے نہیں بول رہے تھے کہ اگر ایسا کرتے تو وہ ان کی بیرون ملک چوری کے پیسوں سے خریدی گئی جائیدادیں ضبط کر لیں گے ، جیسے آج روس کے اثاثے مغرب میں ضبط کیے جا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جن کے خاندان کے لوگ ڈرون میں مرتے تھے وہ بدلہ ہم سے لیتے تھے کیونکہ انہیں پتا تھا کہ یہ ڈرون حملے ہماری اجازت سے ہورہے تھے ۔عمران خان کا کہنا تھا روس یوکر ین جنگ سے دنیا کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، انہوں نے سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجرم نمبر ون نوازشریف جھوٹ بول کر باہر چلا گیا، ملک کے تین بار کے وزیراعظم کے بچے کہتے ہیں ہم تو پاکستانی نہیں، شہبازشریف کا پتا کرانا ہے تو مقصود چپڑاسی کو پکڑ کر لے آئیں، مقصود چپڑاسی کے بینک میں 375کروڑ روپے آگئے ۔
یہ صرف پاکستان کو لوٹنے کیلئے آتے ہیں۔شہبازشریف نے بیٹے کو اور مقصود چپڑاسی کو باہر بھجوادیا، شہبازشریف ڈرے ہوئے ہیں کہ ان کا کیس آنے والا ہے ۔ہم نے بہتر طریقے سے کورونا وائرس کے بحران سے اپنے ملک کو بچایا، کورونا کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آگیا، امر یکا میں 40 سال کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی ہے ،ہم نے عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ڈالنے کی پوری کوشش کی، ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، جتنا ٹیکس دیں گے وہ سارا عوام پر بوجھ کم کرنے پر لگاؤں گا۔ادھر وزیر اعظم عمران خان آج اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران احساس رعایت راشن سکیم کا اجرا کریں گے ۔وزیر اعظم کے تخفیف غربت کے ویژن کے مطابق احساس رعایت راشن سکیم کے تحت 2 کروڑ گھرانوں کو ماہانہ 30 فیصد اشیا ئے خوردونوش پر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔غریب اور متوسط طبقے کے لیے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے تحت 3 اہم اشیاء بشمول آٹا، خوردنی تیل و گھی اور دالوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ احساس کفالت سکیم کے تحت 71 ارب روپے کی کیش امداد کی تقسیم بھی شروع ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اجلاس آج پیر کو ہوگا ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان پر اجلاس طلب کرلیاگیا ہے جس میں قومی ایکشن پلان کے مختلف حصوں پرپیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، اجلاس میں ملکی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور دیگر امور پر غور ہو گا۔ادھر پی ٹی آئی کورکمیٹی کے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور بلدیاتی انتخابات پر مشاورت ہوگی، کور کمیٹی وزیراعظم کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد سے متعلق بھی مشاورت کرے گی۔کور کمیٹی کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ اجلاس کل سہ پہر وز یر اعظم ہا ئوس میں طلب کیا گیا ہے ۔