ختم نبوت لاوارث عقیدہ نہیں،اکابرین نے پارلیمنٹ میں جنگ لڑی،لاہور میں علما کا نفرنس
لاہور (آن لائن)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیراہتمام وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ میں امیر مرکزیہ مولانا پیرحافظ ناصر الدین خاکوانی، امیر مجلس لاہور شیخ الحدیث مولانا مفتی محمدحسن کی زیر صدارت سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس میں مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کوئی لاوارث عقیدہ نہیں۔
ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں یہ جنگ لڑی اور7ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قراردیا،ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ہر قربانی دینے کو ہر وقت تیار ہیں۔دریں اثنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی یوم ختم نبوت مذہبی جوش وجذبے سے منایا گیا اورعظیم الشان ریلیاں نکالی گئیں ،کانفرنسز ، سیمینارز منعقد کیے گئے ۔ لاہور میں منعقدہ کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن، جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی ، قائد وفاق المدارس العربیہ مولانا محمدحنیف جالندھری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا امجدخان ،پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما حافظ میاں محمدنعمان ، مولانا اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان ، مفتی خالد محمود، مولانا نورمحمد ، صدر حفیظ سنٹر فیاض بٹ، مولانا محب النبی، مولانا سید محمود میاں ،مولانا عزیز الرحمن ،مولاما علیم الدین شاکر، پیررضوان نفیس ، مولانا عبدالنعیم، مولانا محبوب الحسن ،مولانا سید رشید ، حافظ نصیر احرار، مولانا رضوان عزیز، مفتی محمد، سلمان گیلانی، مولانا شاہد عمران ، مولاناحا فظ اشرف گجر، ڈاکٹر عبدالواحد ، مولانا خالد محمود، مولانا سعید وقار،مولانا خالد عابد، مولاناعارف شامی، مولانا فقیراللہ ، قاری ذکی اللہ ، مولانا عتیق الرحمن، مولانا فضل الرحمن منگلا، مولانا محمدارشاد، مولاناسمیع اللہ مولانا عرفان سمیت علما ، قراء، تاجر برادری اور عاشقان مصطفیٰ نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔ مولانا فضل الرحمن نے خطاب میں کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کردار کو ختم نبوت کے سلسلے میں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 6 ستمبر جغرافیائی سرحدوں اور 7 ستمبر نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا دن ہے ،عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے عالمی دباؤ موجود ہے لیکن علما نے کبھی اس دباؤ کو قبول نہیں کیا ،پاکستان کی معیشت پر دباؤ عالمی قوتوں کی جانب سے رکھا جارہا ہے ، مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور مسلمانوں کے ایمان کی نشانی ہے ۔ حنیف جالندھری نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون سمیت تمام اسلامی قوانین کو ختم کرانے کی کوششیں دراصل قادیانی سازشوں کے اثرات ہیں،کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو برطرف کیا جائے ۔ سراج الحق نے کہا کہ قادیانیت صرف پاکستان میں خطرہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرہ ہیں ،مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مغربی ممالک پارلیمنٹ اور عدالتوں کے فیصلوں کی بالا دستی کے قائل ہیں ،اس لئے انہیں چاہئے وہ قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے بارے پاکستانی پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کو قبول کر یں ۔مولانا امجد خان نے کہا کہ قادیانیوں کی غیر آئینی و غیرقانونی سرگرمیوں کو روکا جائے ۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما حافظ میاں محمدنعمان نے کہا قادیانیوں پر اسلامی شعائر کے استعمال پر پابندی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے ۔مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ حکومت قادیانی جماعت کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرے ، این جی اوز کے ذریعہ قادیانیت کی تبلیغ ناقابل برداشت ہے ۔