یا اللہ مسلمانوں کے اختلافات ختم کرکے انہیں امت واحدہ بنادے: تبلیغی اجتماع رقت آمیز دعا کیساتھ ختم

یا اللہ مسلمانوں کے اختلافات ختم کرکے انہیں امت واحدہ بنادے: تبلیغی  اجتماع  رقت آمیز دعا کیساتھ  ختم

لاہور، رائیونڈ (دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں )رائیونڈ سالانہ تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔مولانا خورشید نے دعا سے قبل پنڈال میں بیٹھے مندوبین کو ہدایات جاری کیں، اختتامی دعا مولانا ابراہیم آف انڈیا نے کرائی۔

اختتامی دعا  کے وقت ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر شخص اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اس کی رحمت کا طلب گار تھا۔دعا کے بعد ہزاروں تشکیل شدہ جماعتیں دین اسلام کیلئے اندرون اور بیرون ملک روانہ ہوگئیں۔ مولانا عبیداللہ خورشید ،مولانا محمد ابراہیم آف انڈیا نے کہا کہ دعا اللہ رب العزت سے رابطے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،دعا ایک بہترین ہتھیار ہے ،عافیت کا مطلب کسی دینی فتنے ، موذی بیماری میں مبتلا نہ ہونا ہے ،اس لئے عافیت کی ہی دعا مانگی جائے ، عام انسان کی ہدایت کے لئے دعا مانگیں ،یہی تڑ پ اور فکر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ،اللہ رب العزت کی جانب سے دعابہت بڑا انعام ہے ،تکبر شیطان کا وار ہے ، دعاؤں کا اہتمام کریں، اللہ ہی قبول کرنے والا ہے ، مسنون دعائیں کریں، اللہ نے اپنے انبیائے کرام کو دعائیں سکھائیں ،اجتماع کے شرکا اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے کیلئے نیک صالح اعما ل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں ،دعوت وتبلیغ کے اثرات چھ فٹ کے قد پر مرتب ہونے چاہئیں،عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے معاملات کی درستگی پر خصوصی توجہ دیں ،حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بجا آوری ہی انسانیت کی پہچان ہے ، کامل انسان وہ ہے جس کے دل میں اللہ کے ایک ہونے اور سب کچھ اسی کی جانب سے ہونے کا یقین پختہ ہوجائے ،اللہ نے اپنے پیارے نبیؐ کے طریقوں پر چلنے میں کامیابی رکھی ہے ،سکون دولت، اولاد اور رتبے میں نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کے ذکر اور مظلوموں کے کام آنے میں ہے ۔

آخری دعا میں دنیا بھر کے مصیبت زدہ مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ملکوں کے نام لے کر دعا کی گئی ۔دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دین کی سمجھ عطا کردے کہ ہر کلمہ گو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی فکر بھی کرے ، ہر انسان کو جنت میں لے جانے کی تڑپ اور فکر سینوں میں پیدا کرنا ہوگی ،تبلیغی جماعت کی ترتیب پہلے سہ روزہ ،پھر عشرہ پھر چلہ لگا کر دین کو سیکھا جائے ،انسان کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کے ہر عمل کی دعا موجود ہے ،آج ہم جن مصائب اور مسائل کا شکار ہیں، یہ سب دین سے دوری کے نتائج ہیں جو ابھی ہمیں مزید بھگتنے ہیں ،اللہ انسان کی توبہ کا شدت سے منتظر ہے ،انسان کی تقدیر دعاؤں میں پوشیدہ ہے ،پیارے آقاؐ نے بھی دین الٰہی کی دعوت دینے کے دوران بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچانے والوں کو مصائب جھیلنا پڑ تے ہیں ،اے اللہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی عزت و تکریم کو محفوظ بنادے ،امت محمدیہؐ کے درمیان اختلافات ختم کرکے اسے امت واحدہ بنادے ،امت مسلمہ پر مہربانیوں کے دروازے کھول دے ،دوزخ کے بھیانک عذاب سے بچا کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمادے ۔ دنیاوی لذتوں میں گم ہوکر امت محمدیہ دین الٰہی سے دور جاچکی ہے ،تبلیغ کا عظیم مشن بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کیلئے ہے ،عظیم ہیں وہ لوگ جو خالص اللہ کی رضا کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر امام کائنات حضرت محمد رسول اللہ ؐکی سنتوں کو ہر انسان تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے ۔دعا صبح 9بجکر 10منٹ پر شروع ہو ئی ،دعا کا دورانیہ عربی زبان میں 5منٹ جبکہ اردو زبان میں بھی 5منٹ رہا،دعا کے دوران لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں ،سڑکوں پر ٹریفک رک گئی ،ڈیوٹی پر آنے والے سینکڑوں ملازمین بھی اختتامی دعا میں شریک ہوئے ۔اجتما ع کے آخری روز شرکا کی تعداد 6لاکھ سے تجاوز کرگئی۔سندر روڈ، لاہور روڈ ،قصور روڈ اور مانگامنڈی روڈ پر یک طرفہ ٹریفک رواں رہی۔ واضح رہے کہ تبلیغی جماعت کے دوسرے مرحلہ کا آغاز 9نومبر سے ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں