سندھ طاس معاہدہ :جنگوں کے دوران بھی عملدرآمد ہوتا رہا
لاہور(دنیا مانیٹرنگ)تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور بھارت میں پانی کی تقسیم سے متعلق تنازع کے بعد 19 ستمبر 1960 کو ورلڈ بینک کی ثالثی میں انکے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھاجسے سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے۔
اس معاہدے پر دونوں ممالک کی جانب سے دستخط کے بعد مشترکہ مفادات کے لیے مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا جو انڈیا اور پاکستان کے کمشنرر پر مشتمل تھا۔سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر انڈیا کا حق تسلیم کیا گیا ،انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں کے دوران بھی یہ معاہدہ قائم رکھا گیا ۔سیاسی مبصرین پہلگام واقعہ کے بعد یہ معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کو انڈیا کا انتہائی غیرمعمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔پاکستان کی زراعت، معیشت اور پینے کے پانی کا بڑا انحصار دریاؤں پر ہے ،معاملہ عالمی عدالت میں جاسکتاہے۔