چینی 173 روپے کلو یقینی بنائی جائے، کسی کو بھی عوام کا معاشی استحصال نہیں کرنے دیں گے : شہباز شریف

چینی 173 روپے کلو یقینی بنائی جائے، کسی کو بھی عوام کا معاشی استحصال نہیں کرنے دیں گے : شہباز شریف

اسلام آباد(نامہ نگار،اے پی پی، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت چینی کی طے شدہ قیمت پر عملدرآمد یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت بدھ کو چینی کے حوالے سے اجلاس ہوا۔

وزیر اعظم نے شوگر ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت 165 روپے ایکس مل قیمت اور 173 روپے ریٹیل قیمت پر عملدرآمد یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان قیمتوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ وزیراعظم نے کہا کسی کو بھی عوام کے معاشی استحصال کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے ۔حکام نے وزیر اعظم کو بتایا کہ چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔ پاکستان کو دشمن بھارت کے خلاف جنگ جیتنے کی وجہ سے عزت ملی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرنٹ سے لیڈ کیا، ایئرفورس نے کمال کر دکھایا، بھارت کوجس طرح شکست ہوئی آج تک تذکرہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا پوری قوم نے متحد ہوکردشمن کے خلاف مقابلہ کیا، بھارت کے خلاف کمال مہارت کے مظاہرے پردنیا دنگ رہ گئی۔

شہباز شریف نے وزارت خارجہ،ریلوے اور توانائی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا سب وزرا قابل احترام ہیں،اہداف کے حصول کے لئے وزارتوں میں صحت مند مقابلے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں یہاں موجود ہر وزیر دوسرے سے آگے نکلے ۔شہباز شریف نے کہا گزشتہ روزلاہور ریلوے سٹیشن پر انقلابی تبدیلی دیکھ کردلی خوشی ہوئی، سب وزارتوں کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانا ہو گی۔ان کا کہنا تھا توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، وزیر توانائی اور ان کی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، آئی پی پیز سے بات چیت کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔اس میں ہمارے سپہ سالار اور ان کی ٹیم نے زبردست کاوشیں کیں۔وزیراعظم نے کہا غزہ میں ظلم وستم کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، غزہ میں بچوں کی حالت دیکھی نہیں جاتی، ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ کے حوالے سے بھرپور موقف دنیا کے سامنے رکھیں گے اور پاکستان کی اس بارے میں توانا آواز ہوگی،غزہ پر ہمارا موقف واضح اور قوم یکسو ہے ۔وزیراعظم نے کہا این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے فوری طور پر دو کنسائنمنٹس اردن اور مصر کے راستے غزہ پہنچائی جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا دہشت گردی کے خلاف ملک بھر بالخصوص بلوچستان اور کے پی میں دن رات قربانیاں دی جا رہی ہیں، ہمارے افسر، جوان اور شہری شہید ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے شہدا کیلئے دعائے مغفرت کرائی۔وزیراعظم نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ جاں بحق افراد کے لیے دعا کی اور کہا حکومت متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ۔ علاوہ ازیں شہباز شریف سے ورلڈ اکنامک فورم کے منیجنگ بورڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور رکن سعدیہ زاہدی نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ پاکستان کی مضبوط اور دیرینہ شراکت داری کا اعادہ کیا اور سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے سالانہ اجلاسوں کے ذریعے ڈبلیو ای ایف کے پاکستان کے ساتھ مسلسل روابط کو سراہا۔

اسلام آباد (نامہ نگار،اپنے رپورٹرسے ،اے پی پی ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پالیسی 2025 کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے سرکاری حج کوٹہ 70 فیصد اور پرائیویٹ 30 فیصد مقرر کر دیا۔سرکاری حج  کے اخراجات ساڑھے گیارہ لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے تک ہو نگے ۔نیشنل اے آئی پالیسی پاکستان میں پبلک سروس کی بہتری، پیداوار بشمول زرعی شعبے کی پیداوار، معاشی شمولیت، ہنر و تربیت اور روزگار کی فراہمی میں بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ بھی منظور کر لیاجس کا اعلان وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے کیا۔ بدھ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے آئندہ برس حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائزیشن خوش آئند ہے ،حجاج کرام کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی،وزارت مذہبی امور حج پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔اجلاس کو حج پالیسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا گزشتہ برس نجی شعبے کی غفلت کی وجہ سے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کا حج نجی کمپنیاں2026 میں یقینی بنائیں گی،نئی پالیسی کے تحت سرکاری سکیم و نجی کمپنیوں کے تحت حج آپریشن کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے گی،نجی کمپنیوں کی حج آپریشن کے دوران کڑی نگرانی کی جائے گی۔

کابینہ نے حج پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔وزیر اعظم نے حکومت کی پاکستان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے ، عام آدمی کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی تک رسائی، ملک میں مکمل اے آئی ایکوسسٹم کے قیام اور اس حوالے سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نیشنل اے آئی پالیسی کی بھی منظوری دے دی ۔وزیراعظم نے کہا حکومت ایف بی آر اصلاحات میں اے آئی کے ذریعے پہلے سے ہی ملکی آمدن میں اضافے اور نظام کی بہتری پر کام کر رہی ہے ۔کابینہ کو نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کابینہ نے نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 8 جولائی کے اجلاس ،قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 17 جولائی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ بھی منظور کر لیا۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی کے مطابق یہ اقدام وزیراعظم کے ماحولیاتی تحفظ اور توانائی بچت کے وژن کو عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے ۔خالد مگسی نے کہا یہ کوڈ وزیراعظم کے پائیدار ترقی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے ۔نئے ضوابط کے تحت چار یا زائد منزلہ نئی عمارتوں پر گرین بلڈنگ کوڈ کا اطلاق لازمی ہوگا۔اسلام آباد میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بھی نئے تعمیراتی ضوابط نافذ کیے جا چکے ہیں۔

خالد مگسی کا کہنا تھا کہ اب عمارتوں میں توانائی کی بچت، شمسی توانائی پر مبنی ڈیزائن اور گرین چھتیں لازمی ہوں گی۔ادھر وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی 2026کا اعلان کردیا جس کے تحت4اگست سے پہلے آئو پہلے پائو کی بنیاد پر حج درخواستیں وصول کی جائیں گی، آئندہ سال سرکاری سکیم کاکوٹہ 70فیصد اور نجی سکیم کا کوٹہ 30ہوگا۔سرکاری حج سکیم کے تحت ایک لاکھ 19 ہزار 210 کا کوٹہ جبکہ پرائیویٹ سکیم کے لیے 60 ہزار نشستیں مختص کی گئی ہیں ۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے سیکرٹری مذہبی امورسیدعطاالرحمن اوردیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آئندہ سال سرکاری سکیم کے تحت جانے والے عازمین حج کو دواقساط میں واجبات جمع کرانے کی سہولت دی گئی ہے ،درخواستیں وصول کرنے کی آخری تاریخ ابھی طے نہیں کی ، 12سال سے کم عمر کے بچوں کو آئندہ سال حج کی اجازت نہیں ہو گی ۔سرکاری حج کا تخمینہ ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے ہے ، پانچ لاکھ روپے کی پہلی قسط اگست کے پہلے ہفتے سے جمع ہو گی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں