فلسطینی قیدیوں، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، غزہ امن معاہدہ اب قائم رہیگا : ٹرمپ

فلسطینی قیدیوں، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، غزہ امن معاہدہ اب قائم رہیگا : ٹرمپ

شرم الشیخ میں تقریب، معاہدے پر امریکی صدر ، ثالث ممالک مصر، قطر، ترکیہ کے دستخط ،حماس نے 20 یرغمالی ، اسرائیل نے 1900 سے زائد قیدی چھوڑے ،غزہ میں جشن ایسے کامیاب دن پہلے کبھی نہیں دیکھے ،دوست ملکوں کے تعاون پر شکر گزار ہیں،توجہ اب تعمیر نو کی طرف ہونی چاہئے ،امریکی صدر کا خطاب،چین اور یورپی یونین کا خیر مقدم

 شرم الشیخ (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں)مصر کے شہر شرم الشیخ میں بین الاقوامی سربراہی تقریب میں امریکا سمیت ثالث ممالک نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردئیے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا غزہ امن معاہدہ اب قائم رہیگا جبکہ معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے 20 اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل کی جانب سے 1900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا گیا۔ شرم الشیخ میں ہونے والے بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث ممالک مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ، ترک صدر رجب طیب اردوان اور قطر کے امیر نے ‘‘ غزہ امن معاہدے ’’پر دستخط کئے ۔ امریکی صدر کے معاہدے پر دستخطوں کے بعد شرکا نے تالیاں بجا کر معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شریک عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں ۔تقریب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔امریکی صدر نے اپنے مصری ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں شاندار انساناور عظیم جنرل قرار دیا۔

اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ا یک تاریخی دن ہے ، امن معاہدہ بڑی کامیابی ہے ، معاہدے کی دستاویز اصول و ضوابط کی وضاحت کرے گی ، غزہ معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا،امن معاہدے کو کامیاب بنانے میں دوست ملکوں کے تعاون پر شکر گزار ہیں، جنگ بندی میں مصر کا کردار قابل تعریف ہے ۔ امریکی صدر نے کہا اس موقع پر سب خوش ہیں، ہم اس سے پہلے بھی بڑے معاہدے کر چکے ہیں لیکن اس معاملے نے تو بالکل راکٹ کی طرح اڑان بھری ہے ، پہلے یہ پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا ایسے کامیاب دن پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے ، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام چاہتے ہیں، ہم مل کر غزہ میں تعمیر نو کریں گے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کرنے سے قبل کہا یہ دستاویز ضوابط، قواعد و قوانین اور بہت سی دیگر باتوں کو واضح کرے گی۔انہوں نے دو بار دہرایا یہ معاہدہ قائم رہے گا۔تقریب سے قبل صدر ٹرمپ نے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔انہوں نے کہا غزہ امن منصوبے کی ایران نے بھی تائید کی ہے ۔ انہوں نے کہا دوسرے کمرے میں دنیا کی امیرترین قومیں بیٹھی ہیں جنہیں بھی ہم نے دعوت دی تھی وہ سب آئے ہیں۔

ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا خطے کی قیادت غیر معمولی بصیرت کی حامل ہے ۔ لوگ سمجھتے تھے مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں مگر اب یہ امن قائم ہورہا ہے اور دنیا اس تاریخی لمحے کی گواہ بن رہی ہے ۔شرم الشیخ میں اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے ایک ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ادھر حماس نے اسرائیل کے 20 زندہ یرغمالی رہا کر دئیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف)نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا حماس کی طرف سے واپس بھیجے گئے تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو طبی معائنے کے لیے اسرائیلی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا تمام 20 یرغمالیوں کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال لایا گیا تھا۔آئی ڈی ایف کا کہنا ہے واپس آنے والے یرغمالیوں کا ابتدائی طبی جائزہ لیا گیا ہے اور اب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ مل جائیں گے اور اب ان کی مسلسل طبی دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی۔اسرائیلی جیل حکام نے کہا غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 1900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ بیان میں بتایا گیا 1968 افراد کو مختلف جیلوں سے اوفر اور کتسیعوت جیلوں میں منتقل کیا گیاجہاں سے انہیں مغربی کنارے ، مشرقی یروشلم اور کیرم شالوم کے راستے غزہ بھیجا گیا۔

حکام کے مطابق سیاسی قیادت کی منظوری کے بعد قیدیوں کی رہائی مکمل کی گئی۔ رہائی پانے والوں میں بیشتر سکیورٹی الزامات کے تحت قید تھے ۔حماس کی وزارت صحت کا کہنا ہے رہائی پانے والے فلسطینیوں کو اس وقت غزہ میں طبی امداد دی جا رہی ہے ۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں عالمی ریڈ کراس کے حوالے کر دی ہیں۔ فوج کے مطابق ریڈ کراس کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق دونوں تابوت اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور سکیورٹی ایجنسی (آئی ایس اے )کے اہلکاروں کو غزہ میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ فوج نے کہا جلد ہی دو مزید یرغمالیوں کی لاشوں کی منتقلی بھی متوقع ہے ۔ حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارت صحت نے پیر کے روز بتایا اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 67869 تک پہنچ گئی ہے ۔غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے بعد خوشی کی لہر دوڑ گئی۔کئی بسوں میں سوار قیدی خان یونس پہنچے جہاں ہزاروں افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ عوام فلسطینی اور حماس کے جھنڈے لہرا کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے ۔ یہ موقع ایک بڑے عوامی جشن میں تبدیل ہو گیا۔ حماس نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا اور مطالبہ کیا اسرائیل کو دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے سے روکا جائے ۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا ہم صدر ٹرمپ کے اس واضح بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ اسرائیل کی جنگ ختم ہو چکی ہے ۔ انہوں نے عالمی ثالثوں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی حرکات پر کڑی نظر رکھیں تاکہ غزہ کے عوام پر دوبارہ کوئی جارحیت نہ ہو۔ادھر چین اور یورپی یونین نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے اسرائیلی مغویوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے پریس کانفرنس میں کہا چین اس پیشرفت کو خوش آئند سمجھتا ہے اور خطے میں استحکام اور امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتا ہے ۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی مغویوں کی رہائی کو امن کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا صدر ٹرمپ نے اس تاریخی پیشرفت کو ممکن بنایا۔اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ مشرق وسطیٰ کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے ۔

لوگوں کو لگ رہا تھا ہم غزہ میں امن کی کوششوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں، غزہ میں توجہ اب تعمیر نو کی طرف ہونی چاہیے ، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا بندوقیں خاموش ہو رہی ہیں، امن آرہا ہے ، عرب اور مسلم ممالک نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زور ڈالا ہے ۔انہوں نے کہا اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا ہے جو طاقت کے بل پر جیتا جا سکتا تھا۔ وقت آگیا ہے میدانِ جنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خوشحالی کے حتمی انعام میں تبدیل کیا جائے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی عوام سے کہا وہ "دہشت گردی اور تشدد"کا راستہ چھوڑ کر امن کا انتخاب کریں۔ یہ فلسطینیوں کے لیے روشن موقع ہے وہ ہمیشہ کے لیے تشدد سے باز آجائیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایئر فورس ون طیارہ تل ابیب میں لینڈ ہوا جہاں ان کا استقبال وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں