پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے واک آئوٹ کے دوران لوکل گورنمنٹ بل منظور

پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے واک آئوٹ کے دوران لوکل گورنمنٹ بل منظور

مقامی حکومتوں کے انتخاب سے قبل زمین، عمارت، دفتر، گاڑیاں، آلات و دیگر سہولیات کی منتقلی ہوگی:متن پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ پر تحفظات کا اظہار ، واک آؤٹ، مذہبی جماعت کے احتجاج کے معاملے پر اپوزیشن کا ہنگامہ

لاہور(سیاسی نمائندہ،دنیا نیوز)پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے دوران لوکل گورنمنٹ  بل منظور کرلیا گیا، پنجاب اسمبلی کااجلاس 3گھنٹے 42منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس کے دوران حکومت نے مسودہ قانون مقامی حکومت پنجاب 2025ء منظور کروا لیا،اپوزیشن بل کی منظوری کے وقت واک آؤٹ کرکے ایوان سے باہر چلی گئی اور ان کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم کو مسترد کردیاگیا،تاہم بل کی منظوری کے آخر میں اپوزیشن ایوان میں واپس آگئی اور بل پر اپنے تحفظات کااظہار کیا، لیکن سپیکر نے ان کے تحفظات کو یکسر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں اپوزیشن نے ایوان میں ایک بار پھر نعرے بازی شروع کردی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں پھینکتے رہے ، اپوزیشن بار بار اجلاس کی کارروائی ٹی ایل پی کے تشدد کے باعث موخر کرنے کی اپیل کرتی رہی،اور مطالبہ کیا کہ ایجنڈا ملتوی کیا جائے کیونکہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ۔قبل ازیں اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا مذہبی جماعت نے جس طرح پنجاب میں کارروائی شروع کی اس سے لوگ تنگ ہیں۔ پرتشدد طریقے کسی مذہبی تنظیم کے شایانِ شان نہیں۔

پی ٹی آئی کے دور میں جب ٹی ایل پی نے پاکستان بند کیا تھا، تب بھی ان کے بارہ افراد شہید ہوئے ،ان کا خون کہاں تلاش کیا جائے ؟۔اس موقع پر اپوزیشن نے ہنگامہ کیا اور ارکان نے اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر نعرے بازی شروع کردی ،سپیکر ڈائس کے قریب آکر بھی شدید احتجاج کیااور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں لہرا دیں۔ حکومتی رکن رانا ارشد نے اپوزیشن کو ڈاکو اور چور قرار دیدیا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپوزیشن رکن حافظ فرحت کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حافظ قرآن ہوتے ہوئے اسمبلی فلور پر جھوٹ بول رہے ہیں، چیلنج کرتا ہوں اگر ٹی ایل پی کے 282 لوگ شہید ہوئے تو پھر میں استعفیٰ دیدوں گا وگرنہ حافظ فرحت استعفیٰ دیں،1900 لوگ زخمی ہوئے تو وہ لوگ کہاں گئے ہسپتال خالی پڑے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما ممتاز علی چانگ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تحفظات کا اظہار کیا اورکہا آپ اچھے اقدامات کریں گے تو سب کو فائدہ ہو گا،مذہبی جماعت ہو یا سیاسی جماعت ہو سب سے بات چیت ہونی چاہیے ،اس موقع پر ایوان میں بیٹھے پیپلز پارٹی کے تین ممبران واک آؤٹ کر گئے ۔وقفہ سوالات میں ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت رشدہ لودھی اور محکمہ صحت کو کھری کھری سنا دیں اور کہا کہ آپ ہر بات میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے کاموں کی تعریف کی بات کرتی ہیں آخر محکمہ صحت بھی تو کچھ کام کرے ۔بہاولپور میں محرومیاں در محرومیاں ہیں، نہ چلڈرن ہسپتال بنتا ہے نہ ہی ڈینٹل کالج بنایا جاتا ہے ۔ اجلاس میں پاک افغان جنگ میں پاک افواج کے شہدائاور شہید ہونے والے ایس ایچ او، سردار غضنفر علی لنگا کے بھائی اور میاں مرغوب کی اہلیہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

لاہور(حمزہ خورشید سے )پنجاب اسمبلی میں منظورکئے گئے لوکل گورنمنٹ بل 2025 میں پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں  کے اثاثوں اور واجبات کی منتقلی کا طریقہ کار واضح کیا ہے ، بل کے متن کے مطابق جائیداد کی تعریف میں زمین، عمارت، دفتر، گاڑیاں، آلات اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ہر نئی مقامی حکومت تحلیل شدہ ادارے کی جائیداد، افسران اور واجبات کی جانشین ہوگی، لوکل گورنمنٹس کے انتخاب سے قبل جائیداد منتقلی کا عمل مکمل کیا جائے گا،سیکرٹری کی منظوری سے یہ تعین ہوگا کہ کس مقامی حکومت کو کون سا اثاثہ یا ذمہ داری منتقل ہوگی، ایک سے زائد علاقوں میں استعمال ہونے والے اثاثے وزیر کی منظوری سے تقسیم کیے جائیں گے ۔مقامی حکومت سے غیر متعلقہ اثاثے حکومت کو منتقل کیے جائیں گے ، سیکرٹری کو وزیر کی منظوری سے واجبات اور تنازعات کے حل کا اختیار حاصل ہوگا۔ ہر ضلع کو شہری اور دیہی علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے ہر مقامی حکومت کی تشکیل، درجہ بندی اور حدود کا اعلان کرے گی۔مقامی حکومتوں میں ٹاؤن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی اور تحصیل کونسل شامل ہوں گی۔

شہری علاقوں میں آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق مختلف نوعیت کی مقامی حکومتیں قائم ہوں گی، 2 لاکھ سے زائد آبادی والے شہری علاقے میونسپل کارپوریشن، 25 ہزار سے 2 لاکھ کی آبادی والے شہری علاقے میونسپل کمیٹی کہلائیں گے ۔ ایسے شہری علاقے جو کسی ضلع کا ہیڈکوارٹر زہوں، انہیں میونسپل کمیٹی یا میٹروپولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا جائے گا۔ ہر مقامی حکومت اپنی جائیداد کی خرید و فروخت اور معاہدے کرنے کی مجاز ہوگی۔یونین کونسلز کی تعداد کا تعین اور حد بندی حکومت کی منظوری سے الیکشن کمیشن کرے گا۔ یونین کونسلز کی تشکیل دیہی علاقوں میں ریونیو اسٹیٹس جبکہ شہری علاقوں میں مردم شماری بلاکس کی بنیاد پر ہوگی۔ وزیراعلیٰ کسی بھی وقت نئی مقامی حکومت تشکیل دینے یا موجودہ حدود میں تبدیلی کا حکم دے سکیں گے ۔ کسی بھی مقامی حکومت کی تحلیل، انضمام یا ازسرنو تشکیل چھ ماہ سے زیادہ معطل نہیں رکھی جا سکے گی۔ مقامی حکومت ایک میئر یا چیئرپرسن، ڈپٹی میئر یا وائس چیئرپرسن اور ممبران مقامی حکومت پر مشتمل ہو گی۔ میونسپل کمیٹی کا وائس چیئرپرسن ہاؤس کے سپیکر کے طور پر کام کرے گا، یونین کونسل 9 جنرل ممبران پر مشتمل ہو گی، یونین کونسل میں مخصوص نشستوں پر ایک خاتون رکن، دیہی یونین کونسل میں ایک کسان ممبر یا اربن یونین کونسل میں ایک مزدور ممبر، ایک نوجوان رکن اور ایک غیر مسلم رکن ہو گا۔ یونین کونسل کے چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن ممبر خود چنیں گے ۔ ٹاؤن کارپوریشن میئر، دو ڈپٹی میئرز اور یونین کونسل کے چیئرپرسن بطور ایکس آفیشو ممبر اور محفوظ ممبران بطور ممبران پر مشتمل ہوگی، میونسپل کارپوریشن (مری کے علاوہ) میئر، دو ڈپٹی میئرز، چیئرپرسنز یونین کونسل بطور ایکس آفیشو ممبر اور محفوظ ممبران بطور ممبر پر مشتمل ہو گی۔ دو یا زیادہ مد مقابل امیدواروں کے درمیان ووٹوں کی برابری کی صورت میں ریٹرننگ آفیسر قرعہ اندازی کرے گا۔ یونین کونسل کے جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گاجس کے لیے یونین کونسل کا پورا مقامی علاقہ ایک کثیر رکنی وارڈ ہوگا، کوئی بھی شخص، جو مقامی علاقے میں رجسٹرڈ ووٹر ہے ، الیکشن لڑ سکتا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں