سی ڈی ایف نیا عہدہ ،رولز بن رہے :معاون خصوصی وزیراعظم

سی ڈی ایف نیا عہدہ ،رولز بن رہے :معاون خصوصی وزیراعظم

گورنر راج لگانے پرکام شروع نہیں ہوا:حذیفہ رحمان،ورک ہوگیا:منیب فاروق صوبے میں گورنر راج لگا تو بڑا ردعمل آئیگا:فیصل چودھری،دنیا مہر بخاری کیساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے معاملے پر کوئی مس ہینڈلنگ نہیں ہوئی،اس پر رولز مرتب ہونے ہیں،کیونکہ یہ دفاعی ڈھانچہ ہے ،ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر لوگ پراپیگنڈا شروع کردیں گے ، رولز بن رہے ہیں جونہی رولز بنیں گے ، چند دنوں میں نوٹیفکیشن ہوجائے گا،وزیر اعظم پاکستان پہنچ رہے ہیں، نوٹیفکیشن جاری کرنا کوئی ایشونہیں،یہ تو دو منٹ میں جاری ہوسکتا ہے ،ہم چاہتے ہیں پہلے رولز بن جائیں،ساری چیزیں موجود ہوں، تاکہ ایک نیا عہدہ جو بننے جارہا ہے اس کا مقصد پورا ہو، تحریک انصاف جو مرضی پراپیگنڈا کرلے حکومت اوراسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، کے پی میں گورنر راج لگانے پر کام تو شروع نہیں ہوا،لیکن گورنر راج کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہے ،قانون میں گورنر راج پہلے سے ہی آپشن موجود ہے ،اگر وزیر اعلیٰ کے پی نے ایسا رویہ رکھا،کوئی تعاون نہ کیا تو یہ آپشن موجود ہے ،سہیل آفریدی اسلام آباد پر حملہ کرتے ہیں،یا26نومبر کو دوبارہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر سہیل آفریدی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بنتے ہیں تو پھر ہمارے پاس دو آپشن ہیں،پہلی عدم اعتماد،اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو پھر گورنر راج کا آپشن ہے۔

ہماری کوشش ہوگی کہ گورنر راج کو نہ لگایا جائے ، کل کوئی سیاسی ملاقات نہیں ہو گی۔ وکیل بانی تحریک انصاف فیصل چودھری نے کہا ہے کہ گورنر راج لگانے کا طریقہ آئین میں موجود ہے ، کے پی میں سیاسی، معروضی حالات ایسے ہے ہی نہیں کہ گورنر راج لگے ،بات یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں گورنر راج کے ایشو پر اتفاق نہیں کررہیں تو یہ کیسے لگے گا،اگر لگا بھی دیا تو اس کا بڑا ردعمل آئے گا،کے پی میں کئی جماعتیں ہیں جن میں اے این پی، جے یوآئی شامل ہیں، یہ جماعتیں مخالفت کریں گی، فیصل چودھری نے مزید کہا کہ اے این پی، جے یوآئی،پیپلزپارٹی ، ن لیگ آج این ایف سی کے معاملے پر تمام جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔تجزیہ کارمنیب فاروق نے کہا کہ گورنر راج لگانے کا سوچا جارہا ہے ،دوتہائی اکثریت کی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگانا یہ درست نہیں ہے ،بات یہ ہے کہ ایسا کرکے کب تک کام چلائیں گے ،ان حکومتوں کو آئے اڑھائی سال ہوئے ہیں،ایسا کیسے کریں گے ؟، یہ میرا سوال ہے ،پشاور میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس تھی، یہ اس کی بنیاد تھی جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ یہ کے پی کے اندر ہورہا ہے ،فوج یہ سمجھتی ہے ،ان کے پاس ثبوت بھی ہیں کہ وہاں سیاسی لوگوں کادہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے ،اس میں کے پی حکومت کے اہم لوگ ملوث ہیں،دوسرا یہ لوگ افغانستان کے ساتھ تجارت میں غیرقانونی طور پر ملوث ہیں،یہ شواہد وفاقی حکومت کے پاس بھی ہیں،ابھی بارڈر کھولنے کا بھی ارادہ نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ گورنر راج لگانے کیلئے ورک ہوچکا ہے ،اب گورنر کس کو لگانا ہے ، اس کا فی الحال علم نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں