ٹیکس خسارہ پورا کرنے کیلئے کھاد، زرعی ادویات، شوگر آئٹمز پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ : آئی ایم ایف کو یقین دہانی
آئندہ ماہ کھاد ، زرعی ادویات پر 5فیصد FED، ہائی ویلیو شوگرآئٹمز پر شیڈول 8کا استثنیٰ ختم، سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس شرح عائد کی جائے گی 1.2ارب ڈالر کی تیسری قسط موصول ، آئی ایم ایف نے کنٹری رپورٹ میں پاکستان کودرجنوں نئے سٹرکچرل بینچ مارک سونپ دیئے
اسلام آباد (مدثر علی رانا) ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے جنوری سے کھاد، زرعی ادویات، شوگر آئٹمز پر ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرا دی گئی ہے ، نومبر کے اختتام تک تقریباً سوا 4 سو ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ہے۔ ایف بی آر نے دسمبر کا ٹارگٹ اور گزشتہ 5 ماہ کا شارٹ فال پورا نہ ہونے پر میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی سمیت درجنوں نئی شرائط بھی رکھ دیں۔ آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر سٹیٹ بینک اکاؤنٹ میں ون میں منتقل کر دیئے ۔ آئی ایم ایف نے 8 دسمبر کو پاکستان کیلئے 1.2 ڈالرز کی منظور دی تھی۔ موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط کے 1 ارب ڈالر اور موسمیاتی تبدیلی کے لیے 20 کروڑ ڈالر جاری کیے گئے۔
ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی ، ہائی ویلیو شوگرآئٹمز پر شیڈول 8کا استثنیٰ ختم کر کے سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس شرح عائد کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے دوسرے جائزے کی تکمیل پر کنٹری رپورٹ جاری کر دی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف کی چوتھی قسط کیلئے تیسرا اقتصادی جائزہ، آر ایس ایف قرض پروگرام کے تحت دوسری قسط کیلئے دوسرا اقتصادی جائزہ مارچ میں ہو گا جس کیلئے کنٹری رپورٹ میں درجنوں نئے سٹرکچرل بینچ مارک سونپ دیئے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے سرکاری ملکیتی اداروں کے قانوں میں تبدیلی کیلئے اگست 2026 کی ٹائم لائن مقرر کر دی، ایف بی آر نے ریونیو شارٹ فال پورا نہ ہونے کی صورت میں مزید ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی، حکومت نے شوگر سیکٹر مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
توانائی شعبے میں اصلاحات، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، لاگت میں کمی کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، آئندہ دو برسوں کے دوران ملک بھر میں تمام بڑے 40 ہزار ریٹیلرز پر پوائنٹ آف سیلز سسٹم نصب کیا جائے گا، ایم ای ایف پی میں چاروں صوبوں کے درمیان سیلز ٹیکس پر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی، مالی سال 2027 کے دوران نئے منصوبوں پر صرف پی ایس ڈی پی کا 10 فیصد خرچ کیا جائے گا، پی ایس ڈی پی میں تقریباً 25 سو ارب روپے کے منصوبوں کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا، آئندہ مالی سال موسمیاتی تبدیلی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی، پبلک پروکیورمنٹ میں شفافیت لانے کیلئے ای پیڈز کا استعمال کیا جائے گا، ای پیڈز کے استعمال پر آڈیٹر جنرل مارچ 2026 تک رپورٹ صدر مملکت کو فراہم کرے گا، جنوری 2026 سے کفالت پروگرام کے تحت سہ ماہی بنیاد پر رقم بڑھا کر ساڑھے 14 ہزار اور مستحقین کی تعداد 1 کروڑ 2 لاکھ تک بڑھا کر دائرہ وسیع کیا جائے گا، رقم نکلوانے کیلئے بائیومیٹرک ویریفکیشن، ای والٹ جون تک متعارف ہو گا، ٹیرف ریبیسنگ جولائی کی بجائے جنوری 2026 سے کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے ، گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 16 سو 14 ارب روپے تک محدود ہو گیا، کمرشل بینکوں کے ساتھ جنوری 2026 تک 1.2 ٹریلین روپے کے معاہدے کی سیٹلمنٹ ہو جائے گی، 660 ارب روپے پرائیویٹ ہولڈنگ لمیٹڈ اور باقی سی پی پی سے کو ادا کیے جائیں گے ، گردشی قرضہ میں کمی کیلئے 128 ارب روپے کی آئی پی پیز سے سود کی رقم کو ختم کرایا جائے گا، مالی سال 2031 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
کنٹری رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024 کے دوران 52 لاکھ اور سال 2025 کیلئے 70 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن فائل ہوئیں، مستحکم گروتھ حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا، آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب کے باعث 70 لاکھ افراد متاثر اور تقریباً 1 ہزار جاں بحق ہوئے ، انفراسٹرکچر، گھروں، لائیو سٹاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ رواں مالی سال کے دوران مرکزی بینک کی مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے ۔ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 1.3 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا، زرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئے ، افراطِ زر میں سیلاب کے باعث اضافہ عارضی ہے ، آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مستحکم پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور ٹیکس نظام کی سادگی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ ڈیٹا، شماریات اور گورننس میں بہتری ناگزیر ہے ، پبلک اکاؤنٹس، ایس او ایز اور توانائی سیکٹر میں گہری اصلاحات ضروری ہیں، پاور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے گردشی قرض میں کمی کی جاسکتی ہے ، توانائی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانا پاکستان کی مسابقت کیلئے اہم ہے، سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا مہنگائی کو ہدف پر رکھنے کیلئے ضروری ہے، سٹیٹ بینک کو فاریکس مارکیٹ میں شفافیت اور لچک بڑھانے کی ہدایت کی گئی، سیلاب نے موسمیاتی اصلاحات کی اہمیت اجاگر کی۔ رپورٹ میں پانی کے بہتر استعمال اور قدرتی آفات کی تیاری پر زور دیا گیا، پاکستان کی معیشت میں نجی شعبے کی قیادت میں نمو کو اہم قرار دیا گیا، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل بہتری ہو رہی، رواں مالی سال کے اختتام تک مزید بہتری کی توقع ہے ۔
بجلی قیمتوں سے متعلق بروقت فیصلے سے سرکلر ڈیٹ کنٹرول ہوا، مضبوط معاشی فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت جھٹکے برداشت کر سکی، رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح بہتر ہونے کی توقع ہے ، موجودہ قرض پروگرام کیلئے پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ، موسمیاتی تبدیلی کے پروگرام کی قسط کیلئے پاکستان نے بروقت اقدامات کیے ، سیلاب کے بعد پاکستان میں اصلاحات اور پالیسیز کے تسلسل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ، رواں مالی سال کا پرائمری بیلنس قابو میں رہنے کی توقع ہے ، ٹیکس اصلاحات کے ذریعے آمدن بڑھنے میں مدد ملے گی، ٹیکس آمدن بڑھانے اور قرض کم کرنے کیلئے اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنا ہوگا۔ رواں مالی سال کا پرائمری بیلنس قابو رہنے کی توقع ہے ، ٹیکس اصلاحات کے ذریعے آمدن بڑھنے میں مدد ملے گی، ٹیکس آمدن بڑھانے اور قرض کم کرنے کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنا ہوگا۔
آئی ایم ایف نے ایف بی آر کا رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف ریوائز کر دیا جس کے مطابق ب ایف بی آر کو 13 ہزار 979 ارب روپے اکٹھے کرنا ہونگے ، اس سے قبل رواں مالی سال کیلئے ایف بی آر کا بجٹ اور آئی ایم ایف سے منظور شدہ ٹارگٹ 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ ایف بی آر جولائی تا نومبر ٹیکس ہدف حاصل نہیں کر سکا اور ہدف میں 412 ارب کا شارٹ فال ہے ، نظرثانی شدہ ٹارگٹ پر ایف بی آر کو جولائی تا نومبر 314 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ہو گیا، نومبر میں حقیقی ہدف 1 ہزار 35 ارب کے ٹارگٹ میں سے 139 ارب روپے شارٹ فال آیا، نظرثانی شدہ 995 ارب روپے کے ہدف میں تقریباً 99 ارب کا شارٹ فال رہا۔ دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی جولائی تا نومبر مجموعی آمدن 4730 ارب روپے رہی، ایف بی آر نے نومبر کے دوران 896 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔