31 دسمبر کو تمام افسروں کے اثاثے منظر عام پر آجائینگے : وزیر خزانہ

31 دسمبر کو تمام افسروں کے اثاثے منظر عام پر آجائینگے : وزیر خزانہ

این ایف سی پر 15جنوری تک پیشرفت متوقع، جلد اتفاق رائے ہو گا:اورنگزیب صنعت کو ریلیف کی ضرورت،نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں:صدر لاہور چیمبر

لاہور( کامرس رپورٹر)وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا جب بزنس مین پارلیمنیٹرین اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں تو بیوروکریٹس کو کیا مسئلہ ہے ،31 دسمبر کو تمام افسروں کے اثاثے منظر عام پر آجائیں گے ۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے منعقدہ آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان مسلسل اور بامقصد مکالمہ ناگزیر ہے، کیونکہ بجٹ تک محدود رابطہ مسائل کا پائیدار حل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان نہایت مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دئیے گئے ہیں ،جلد اتفاق رائے ہو جائے گا ، 15 جنوری تک پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد ایک ار ب20 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری میں نجی شعبہ حصہ لے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینٹر اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ٹیکس دینے سے ملک چلا کرتے ہیں اب ہم نے آگے بڑھنے کا راستہ ڈھونڈنا ہے ، جب بزنس مین پارلیمنیٹرین اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں تو بیوروکریٹس کو کیا مسئلہ ہے ، 31 دسمبر کو تمام افسروں کے اثاثے منظر عام پر آجائیں گے ۔ ـ وفاقی وزیر نے کہا آئی ایم ایف نے نہیں بلکہ کرپشن کی رپورٹ کا ہم نے ہی آغاز کیا تھا ہم نے ہی اس میں سہولت کاری کی ہے ۔یہ رپورٹ چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ چاول کی ایکسپورٹ میں کمی کی وجہ یہ ہوئی ہے کہ بھارت مارکیٹ میں آیا اور قیمتیں کم ہوئیں پاسکو کو ہم بند کر رہے ہیں کہ یہ کرپشن کا گڑھ تھا 40 اداروں کو کم کر رہے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا ٹیکس پالیسی کا ایف بی آر سے کوئی تعلق نہیں رہا،ایف بی آر صرف ٹیکس اکٹھا کرے گا،اگلے سال کے بجٹ میں ٹیکس پالیسی نئے طریقے سے آئے گی،جو سیکٹر ٹیکس میں نہیں اسے لایا جائے گا ـ، کرپٹو ایکسچینج کو لائسنس دینے کا معاہدہ مزید بہتری لائے گا،اڑھائی کروڑ سے زائد پاکستانی اس کرپٹو کے کاروبار میں شامل ہیں ہم نے کرپٹو کونسل بنائی ہمیں یہ ڈیجیٹل اکانومی کی طرف جانا ہے ـ۔صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کی لاگت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے جس کے باعث صنعت کو فوری ریلیف کی اشد ضرورت ہے ۔ پالیسی ریٹ، مہنگی بجلی اور گیس صنعتی یونٹس کی بیرونِ ملک منتقلی کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کر کے بجلی کے نرخ خطے کے ممالک کے برابر لانا ناگزیر ہے ۔

نان فائلرز کو مراعات دے کر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جائے ، ٹیکس نظام کو سادہ اور شفاف بنایا جائے اور غیر ضروری ودہولڈنگ ٹیکسز ختم کیے جائیں۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، نائب صدر سارک چیمبر میاں انجم نثار، سابق صدر محمد علی میاں، سابق سینئر نائب صدور علی حسام اصغر، ظفرمحمود چودھری ، خالد عثمان، پاکستان کے تمام چیمبرز کے صدور، صدرکراچی چیمبر ریحان حنیف، صدر اسلام آباد چیمبرسردار طاہر محمود،صدر سیالکوٹ چیمبرسید احتشام، صدر سرحد چیمبر، صدر ملتان چیمبر بختاور تنویر شیخ، صدر کوئٹہ چیمبرایوب میرانی، صدر فیصل آباد چیمبر فاروق یوسف شیخ، صدر لوئر دیر چیمبر، صدر ہری پور چیمبر عمیر خالد،صدر چمن چیمبر عبدالنافع، صدر گوجرانوالہ چیمبر علی یاسین بٹ کے علاوہ لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی موجود تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں