پی ٹی وی بزنس پلان میں انتظامیہ کی عدم دلچسپی،قائمہ کمیٹی کوتشویش
ادارہ اخراجات کیلئے مستقل طور پر سرکاری گرانٹ پر انحصار نہیں کر سکتا:ارکان پی ٹی وی سپورٹس کے ریونیو پورٹ فولیو ،سربراہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کی صورتحال پر بھی تحفظات ، چاہتے ہیں کوئی بیروزگار نہ ہو:کمیٹی
اسلام آباد (نامہ نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے بجلی بلوں کے ذریعے پی ٹی وی لائسنس فیس کی وصولی بند ہونے کے بعد پی ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے مالی اخراجات پورے کرنے کے لئے بزنس پلان اور متبادل ریونیو سٹریمنز متعارف کرانے میں عدم دلچسپی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ،کمیٹی نے واضح کیا کہ پی ٹی وی آپریٹنگ اور ملازمین سے متعلق اخراجات کی ادائیگی کے لئے مستقل طور پر سرکاری گرانٹ پر انحصار نہیں کر سکتا۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین پولین بلوچ کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں معاملے کا جائزہ لینے کے لئے رکن قومی اسمبلی ندیم عباس کی کنوینر شپ میں چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جو پی ٹی وی کے لیے جامع کاروباری منصوبہ تیار کرنے ، تنخواہوں کی مستقل ادائیگی اور موجودہ مالی بحران کے ذمہ دار عوامل اور افراد کی نشاندہی کریگی ۔کمیٹی نے پی ٹی وی سپورٹس کی کارکردگی، اس کے ریونیو پورٹ فولیو اور پی ٹی وی سپورٹس کے سربراہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی، کمیٹی نے شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی (ایس آر بی سی) کی موجودہ صورتحال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، ڈائریکٹر جنرل وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو ادارے کی زیر التوا ذمہ داریوں کے جائزے اور بحالی سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے ، جو تاحال زیر غور ہے کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی مؤثر پیروی کی جائے تاکہ کوئی ملازم بے روزگار نہ ہو۔کمیٹی نے کراچی میں رکے ہوئے پی ایس ڈی پی منصوبے سے متعلق ڈائریکٹر جنرل پی بی سی کی جانب سے پیش کی گئی تعمیلی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا اور منصوبے کی پیش رفت سے متعلق ہر دو ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔