بنگلہ دیشی ایئرچیف کا دورہ پاکستان ،جے ایف لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ،طویل مدتی دفاعی تعلقات کا عزم
ائیرچیف حسن محمود کی سربراہ پاک فضائیہ کو فضائی بیڑے کی دیکھ بھال و مرمت، ایئر ڈیفنس راڈار سسٹم کو ایئر سرویلنس سسٹم سے منسلک کرنے میں معاونت کی بھی درخواست ظہیربابر کی تربیتی تعاون،مشاق طیاروں کی جلد فراہمی کی یقین دہانی، جے ایف تھنڈر قیمت، سیاسی لچک اور دستیابی کی وجہ سے خریدار ممالک کیلئے پرکشش :دفاعی ماہرین
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل ظہیر احمدبابر سدھو سے بنگلہ دیش ایئرفورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے ملاقات کی ہے ، جس میں جے ایف 17تھنڈر طیارے کی خریداری پر بات چیت کی گئی ۔ملاقات کے دوران آپریشنل تعاون اور ایرو سپیس شراکت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری بیان کے مطابق بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی زیر قیادت اعلیٰ سطح کے وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو نے استقبال کیا، انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران آپریشنل تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جس میں تربیت، صلاحیت سازی اور ایرو سپیس ٹیکنالوجی میں باہمی اشتراک پر خصوصی توجہ دی گئی۔ایئر چیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی فضائیہ کیلئے جامع تربیتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات چیت کی گئی جبکہ بنگلہ دیشی ایئر چیف نے پاکستانی ایئر چیف سے بنگلہ دیش کے پرانے لڑاکا فضائی بیڑے کی دیکھ بھال اور مرمت میں معاونت کی درخواست کی۔ بنگلہ دیشی ایئر چیف نے طویل مدتی دفاعی تعلقات کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے یہ بھی درخواست کی کہ بنگلہ دیش کے ایئر ڈیفنس راڈار سسٹم کو ایئر سرویلنس سسٹم سے منسلک کرنے میں تعاون کیا جائے ۔ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے بنگلہ دیش ایئر فورس چیف حسن محمود خان کو ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیش ایئرفورس کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے تعاون اور مکمل تربیتی و طویل مدتی معاون نظام کی فراہمی کا یقین دلایا۔ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے بنگلہ دیش کو سپر مشاق تربیتی طیاروں کی جلد فراہمی کا بھی یقین دلایا۔
وفد نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پی اے ایف سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ کیا، جہاں انہیں آئی ایس آر، سائبر، سپیس، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ نظاموں میں پاکستان ایئر فورس کی صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے اور طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری کے عزم کا مظہر ہے ۔جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری ایک ایکٹو الیکٹرونکلی سکینڈ ایرے (اے ای ایس اے )ریڈار اور لانگ رینج بی وی آر سے لیس 4.5 جنریشن کا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو مختلف قسم کے جنگی مشنز میں حصے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔پاکستان نے چین کی مدد سے ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور دفاعی ماہرین کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے جس نے انڈیا کے ساتھ 2019 اور مئی 2024 کی کشیدگی کے دنوں میں اپنی کارکردگی ثابت کی ہے ۔پاکستان اب تک آذربائیجان، میانمار اور نائیجریا کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ عراق اور لیبیا سمیت کئی ممالک کے ساتھ اس طیارے کی فروخت کے معاہدے طے پا چکے ہیں۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ بنگلہ دیش کے ساتھ ابھی تک اس طیارے کی فروخت کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تاہم ‘انہوں نے اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے ہماری تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔اس دورے کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے جس میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے اور طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔گزشتہ برس پاکستان نے آذربائیجان کو 40 جے ایف-17 سی بلاک تھری طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا جو 4.6 ارب ڈالر کے تاریخی دفاعی معاہدے کا حصہ تھا۔پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے اب تک فروخت کردہ طیاروں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ایران سمیت کئی ممالک نے ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔کچھ ناقدین اس بات پر حیران ہیں کہ کئی ممالک روایتی مغربی سپلائرز کے بجائے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے جنگی طیارے خریدنے کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں۔
جے ایف-17 جیسے پلیٹ فارم کی ان فضائی افواج کے لیے بڑھتی ہوئی کشش کی کیا وجوہات ہیں؟ خاص طور پر ایسے کون سے فوائد ہیں جو پاکستان، مغربی دفاعی سپلائرز کے مقابلے میں فراہم کرتا ہے اور پاکستان سے طیارے خریدنے کی خواہش عالمی دفاعی منڈی میں بدلتے ہوئے رجحانات کے بارے میں کیا ظاہر کرتی ہے ؟دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اور پاکستان کے اشتراک سے تیار شدہ جے ایف-17 تھنڈر قیمت، سیاسی لچک اور دستیابی کی وجہ سے مغربی جنگی طیاروں کے مقابلے میں خریدار ممالک کے لیے پرکشش ہے ۔ جدید اپ گریڈ اور مقامی دیکھ بھال کی سہولت اسے محدود بجٹ رکھنے والی فضائی افواج کے لیے عملی اور موثر بناتی ہے ۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس)سے وابستہ ملٹری ایروسپیس کے ماہر ڈگلس بیری کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے اشتراک سے تیار کردہ پاکستانی جے ایف-17 مغربی ممالک کے طیار کردہ جنگی طیاروں کے مقابلے میں قیمت کے لحاظ سے پُرکشش ہے ۔ڈگلس بیری کہتے ہیں کہ ‘اس طیارے کی تازہ ترین اپ گریڈ میں مؤثر ریڈار اور فضائی ہتھیار شامل کیے گئے ہیں۔اس طیارے کی تیاری، اپ گریڈیشن اور \'اوور ہالنگ\' کی سہولیات بھی ملک کے اندر ہی دستیاب ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس طیارے کی تیاری کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کا محتاج نہیں۔