2025:ملکی قرضے کم نہ ہوئے ، 7 ہزار ارب روپے کا اضافہ
مجموعی قرضہ7ہزار ارب سے تجاوز ،2024ء کے مقابلے میں 10فیصد بڑھ گیا مقامی ذرائع سے لیا قرض54 ہزار 619 ، بیرونی ساڑھے 22 ہزار ارب :سٹیٹ بینک
لاہور (زاہدعابد سے )سال 2025 ئمیں بھی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کم نہ ہوا، مرکزی حکومت کا مجموعی قرض 77 ہزار ارب روپے سے زائد ہو گیا،پاکستان کی مرکزی حکومت کے قرضہ جات میں ایک سال کے دوران تقریباً 7 ہزار ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 ء کے مقابلے میں گزشتہ سال مرکزی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا اورسال 2025 ء کویہ قرضہ 77 ہزار 543 ارب روپے ہوگیا،2024 ئکویہی قرض 70 ہزار 365 ارب روپے تھا ۔سٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق مقامی ذرائع سے لئے گئے قرضوں میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مقامی قرضوں کی مجموعی مالیت 54 ہزار 619 ارب روپے تک جا پہنچی جبکہ بیرونی ذرائع سے حاصل قرضہ جات میں بھی 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے بیرونی قرضے 22 ہزار 525 ارب روپے ہو چکے ہیں جو گزشتہ برس کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طویل مدتی قرضوں میں 19 فیصد اضافہ ہوا اوران کی مجموعی مالیت 46 ہزار 191 ارب روپے تک پہنچ گئی ۔