دہشتگردوں کیخلاف حکومت اور ریاست زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن
افغانستان کی طرح پختونخواہ حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالف کیوں
(تجزیہ:سلمان غنی)
2025 میں دہشت گردی کے رحجانات اور اس کے سدباب کیلئے ریاستی اقدامات اپنی نتیجہ خیزی اور خصوصاً ملکی علاقائی اور عالمی صورتحال پر بننے والے بیانیہ پر مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس کو مربوط موثر اور جامع قرار دیا جا سکتا ہے ،یہ دراصل ریاست اور حکومت پاکستان کی یکسوئی اور سنجیدگی کا مظہر ہے اور اس پریس کانفرنس کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے اور دہشت گردوں کو ان کے انجام پر پہنچانے کے لئے ملک بھر میں حکومت اور ریاست زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن ہے ،مذکورہ پریس کانفرنس میں سامنے آنے والی اہم بات دہشت گردی کے 80فیصد واقعات کا پختونخوا میں ہونا ہے ۔
مذکورہ صورتحال میں اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ پختونخوا دہشت گردی کا مرکز کیونکر بنا رہا اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیا وجہ ہے پختونخوا حکومت آپریشن میں معاونت کے لئے تیار نہیں ،جہاں تک پختونخوا میں دہشت گردی کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال کا سوال ہے تو اس کی بڑی اور بنیادی وجہ افغانستان سے طویل اور دشوار گزار سرحد ہے ، اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ جس طرح افغانستان میں افغان طالبان تحریک طالبان اور دیگر کے خلاف آپریشن سے اس لئے گریزاں ہیں کہ ان کے درمیان نظریاتی رشتے ہیں ،پختونخوا میں صورتحال ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت براہ راست ان کے خلاف آپریشن نہیں چاہتی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پختونخوا حکومت سمجھتی ہے کہ آپریشن نتیجہ خیز ہوگا تو وفاق اور ریاست ان کے خلاف کارروائی کی پوزیشن میں ہوں گے ، لہٰذا وہ آپریشن کی بجائے مذاکرات کی بات کرتے نظر آتے ہیں ،پختونخوا میں پیدا شدہ صورتحال اور پختونخوا حکومت کا بیانیہ اب آپریشن کی نتیجہ خیزی پر حاصل ہے۔
جہاں تک افغان طالبان کے طرز عمل کا سوال ہے تو بلاشبہ اب پاکستان سمیت علاقائی ممالک اس بات پر اتفاق رائے کر چکے ہیں کہ افغان طالبان نے دوحا معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اور دنیا میں پاکستان کے موقف کو پذیرائی مل رہی ہے ،جہاں تک پاکستان کے کردار کا سوال ہے تو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ دنیا کو تو جیت کر دی مگر اس کی قیمت آج تک پاکستان ادا کر رہا ہے اور مغربی بارڈر پر پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان کے دشمن کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈا پر گامزن ہیں ،پاکستان کی فورسز نے قربانیوں کی تاریخ رقم کر کے ثابت کیا ہے کہ انہیں یہ جنگ جیتنا ہے اور اس عزم کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں کیا ہے ، 2025 دہشت گردی کے سدباب اور دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے حوالہ سے اہم رہا مگر 2026 کو اب دہشت گردی سے مستقل نجات کے سال کے طور پر لینا چاہئے اور اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اس کے تمام طبقات اپنی حکومت اور فورسز کے پیچھے کھڑے ہوں ،عشق عمران کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ 24کروڑ عوام کے نزدیک پاکستان، اس کی بقا اور مفادات اہم ہیں ۔