300 ارب کی پٹرولیم مصنوعات سمگل ہورہیں،وزیر پٹرولیم
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے انکشاف کیا کہ ملک میں 300 ارب روپے کی پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ ہورہی ہے ۔ گیس سیکٹر کے گردشی قرض کے خاتمے کے پلان کا جلداعلان کردیں گے ۔
پلان آئندہ چند ماہ میں مکمل کرکے آئی ایم ایف سے شیئر کریں گے ۔کوشش ہے آئل ٹرانسپورٹیشن کو پائپ لائن پر منتقل کردیں۔ قطر کے ساتھ نظر ثانی ایل این جی معاہدے سے تقریبا ایک ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی ۔ا سلام آباد میں بیٹ رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قطر سے 2026 میں ماہانہ دس کی بجائے 7 کارگوز لیں گے ، قطر سے مجموعی طور پر سالانہ 120 کارگوز منگواتے تھے ،،2026 میں قطر سے 84 ایل این جی کارگوز منگوائیں گے ۔علی پرویز ملک نے کہا کہ رواں سال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ نظر ثانی معاہدہ ہے ۔ پہلے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی تھی، سرپلس کارگوز عالمی مارکیٹ منتقل کرنے کے معاہدے کے بعد قیمتیں بڑھنے سے روک دیں، مہنگا فیول منگوا کر گھریلو سیکٹر کو سستا فراہمی سے نقصان ہوتا رہا۔ حکومت کا ملک میں تیل سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کا پلان ہے ۔منصوبے پر عملدرآمد سے ٹرانسپورٹ اخراجات کم،صارفین کو ریلیف ملے گا۔ پلان کے تحت پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں پائپ لائن بچھائی جائے گی،غیر قانونی آئل سپلائی چین کو روکنے کیلئے ٹریکر نظام پر عملدرآمد کا بھی آغاز کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ گردشی قرض کا فلو زیرو کر دیا ہے ، ایل پی جی انڈسٹری کے حوالے سے نئی پالیسی بنائی جائے گی ۔